صحیح بخاری
کتاب
ذبیحوں اور شکار کا بیان
باب
مجوس کے برتن اور مردار کا بیان
حدیث نمبر
5109
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ قَالَ حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيُّ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضِ أَهْلِ الْکِتَابِ فَنَأْکُلُ فِي آنِيَتِهِمْ وَبِأَرْضِ صَيْدٍ أَصِيدُ بِقَوْسِي وَأَصِيدُ بِکَلْبِي الْمُعَلَّمِ وَبِکَلْبِي الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا مَا ذَکَرْتَ أَنَّکَ بِأَرْضِ أَهْلِ کِتَابٍ فَلَا تَأْکُلُوا فِي آنِيَتِهِمْ إِلَّا أَنْ لَا تَجِدُوا بُدًّا فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا بُدًّا فَاغْسِلُوهَا وَکُلُوا وَأَمَّا مَا ذَکَرْتَ أَنَّکُمْ بِأَرْضِ صَيْدٍ فَمَا صِدْتَ بِقَوْسِکَ فَاذْکُرْ اسْمَ اللَّهِ وَکُلْ وَمَا صِدْتَ بِکَلْبِکَ الْمُعَلَّمِ فَاذْکُرْ اسْمَ اللَّهِ وَکُلْ وَمَا صِدْتَ بِکَلْبِکَ الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ فَأَدْرَکْتَ ذَکَاتَهُ فَکُلْهُ
ابو عاصم، حیوۃ بن شریح، ربیعہ بن یزید دمشقی، ابوادریس خولانی، ابوثعلبہ، خشنی کہتے ہیں کہ میں نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول ﷲ! ہم اہل کتاب کی زمین میں رہتے ہیں اس لئے ہم ان کے برتنوں میں کھاتے ہیں اور شکار کی زمیں رہتے ہیں اور ہم کمان سے اور اپنے سکھائے ہوئے کتے کے ذریعہ سے شکار کرتے ہیں، تو آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے جو بیان کیا کہ اہل کتاب کی زمین میں رہتے ہو تو ان کے برتن میں نہ کھاو مگریہ کہ اس کے سوا کوئی چارہ کار نہ ہو، اگر کوئی صورت نہ ہوتوا نہیں دھولو اور ان میں کھاو اور تم نے جو بیان کیا کہ تم شکار کی زمین میں رہتے ہو تو اگر تم کمان سے اس پر ﴿بسم ﷲ﴾ پڑھ کر شکار کرو تو کھالواور اگر بغیر سکھائے ہوئے کتے کے ذریعہ سے شکار کرو اور اس کے ذبح کا موقع مل گیا ہو تو (ذبح کرکے) کھالو-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment