صحیح بخاری
کتاب
ذبیحوں اور شکار کا بیان
باب
مرغی کھانے کے بیان میں
حدیث نمبر
5132
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ أَبِي تَمِيمَةَ عَنْ الْقَاسِمِ عَنْ زَهْدَمٍ قَالَ کُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ وَکَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ هَذَا الْحَيِّ مِنْ جَرْمٍ إِخَائٌ فَأُتِيَ بِطَعَامٍ فِيهِ لَحْمُ دَجَاجٍ وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ جَالِسٌ أَحْمَرُ فَلَمْ يَدْنُ مِنْ طَعَامِهِ قَالَ ادْنُ فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْکُلُ مِنْهُ قَالَ إِنِّي رَأَيْتُهُ أَکَلَ شَيْئًا فَقَذِرْتُهُ فَحَلَفْتُ أَنْ لَا آکُلَهُ فَقَالَ ادْنُ أُخْبِرْکَ أَوْ أُحَدِّثْکَ إِنِّي أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِنْ الْأَشْعَرِيِّينَ فَوَافَقْتُهُ وَهُوَ غَضْبَانُ وَهُوَ يَقْسِمُ نَعَمًا مِنْ نَعَمِ الصَّدَقَةِ فَاسْتَحْمَلْنَاهُ فَحَلَفَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا قَالَ مَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُکُمْ عَلَيْهِ ثُمَّ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَهْبٍ مِنْ إِبِلٍ فَقَالَ أَيْنَ الْأَشْعَرِيُّونَ أَيْنَ الْأَشْعَرِيُّونَ قَالَ فَأَعْطَانَا خَمْسَ ذَوْدٍ غُرَّ الذُّرَی فَلَبِثْنَا غَيْرَ بَعِيدٍ فَقُلْتُ لِأَصْحَابِي نَسِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينَهُ فَوَاللَّهِ لَئِنْ تَغَفَّلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينَهُ لَا نُفْلِحُ أَبَدًا فَرَجَعْنَا إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا اسْتَحْمَلْنَاکَ فَحَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنَا فَظَنَنَّا أَنَّکَ نَسِيتَ يَمِينَکَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ هُوَ حَمَلَکُمْ إِنِّي وَاللَّهِ إِنْ شَائَ اللَّهُ لَا أَحْلِفُ عَلَی يَمِينٍ فَأَرَی غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَتَحَلَّلْتُهَا
ابومعمر، عبدالوارث، ایوب بن ابی تمیمہ، قاسم، زہدم کہتے ہیں کہ ہم ابوموسیٰ اشعری رضی ﷲ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور ہمارے درمیان اور جرم کے اس قبیلہ کے درمیان بھائی چارہ تھا تو کھانا لایاگیا اس میں مرغی کا گوشت تھا، اس جماعت میں ایک آدمی بیٹھا تھا جس کارنگ سرخ تھا، وہ کھانے کے قریب نہیں آیا، ابوموسی اشعری رضی ﷲ عنہ نے فرمایا کہ قریب آ، میں نے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کو مرغی کا گوشت کھاتے ہوئے دیکھا ہے، اس نے کہا کہ میں نے مرغی کو ایسی چیز کھاتے ہوئے دیکھاتواس سے مجھے گھن آتی ہے، تو میں نے قسم کھالی کہ میں مرغی نہیں کھاؤں گا، ابوموسی اشعری رضی ﷲ عنہ نے فرمایا کہ نزدیک آجا، میں تجھے خبردوں یا یہ فرمایا کہ میں تجھ سے بیان کروں کہ میں چند اشعریوں کے ساتھ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس وقت پہنچا کہ آپ غصہ کی حالت میں تھے اور صدقہ کے جانور تقسیم کر رہے تھے، ہم نے آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے سواری کا جانور مانگا تو آپ نے قسم کھا کر فرمایا کہ وہ مجھے سواری نہیں دیں گے، اور فرمایا کہ میرے پاس کوئی جانور نہیں کہ تمہیں سواری کے لئے دوں، پھرآپ صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس غنیمت کے اونٹ آئے تو آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا اشعری کہاں ہے؟ اشعری کہاں ہے؟ پھر ہمیں پانچ اونٹ دئے جوسفید تھے اور اونچی کہان والے، پھر ہم چلے اور تھوڑی دور بھی نہیں جانے پائے تھے کہ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ شاید آپ صلی ﷲ علیہ وسلم اپنی قسم بھول گئے، اگر ہم نے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کو اپنی قسم سے غافل رکھا تو بخدا! ہم کبھی فلاح نہیں پائیں گے، چناچہ ہم نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں لوٹ آئے اور عرض کیایارسول ﷲ!ہم نے آپ سے سواری مانگی تو آپ نے قسم کھاتے ہوئے فرمایا تھا کہ آپ ہمیں سواری نہیں دیں گے، ہمیں خیال ہوا کہ شاید آپ اپنی قسم بھول گئے، آپ نے فرمایا ﷲ نے تمہیں سواری دی ہے، اور بخدا جب بھی کسی بات پر قسم کھاتاہوں اور بھلائی اسکے سوا میں پاتاہوں تو وہ کام کرتاہوں جس میں بھلائی ہوتی ہے اور (کفارہ دے کر) قسم توڑدیتاہوں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment