Thursday, September 1, 2011

Jild3,Bil-lihaaz Jild Hadith no:1316,TotalNo:5967


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
دعاؤں کا بیان
باب
مکرر دعا کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر
5967
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُنْذِرٍ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طُبَّ حَتَّی إِنَّهُ لَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ قَدْ صَنَعَ الشَّيْئَ وَمَا صَنَعَهُ وَإِنَّهُ دَعَا رَبَّهُ ثُمَّ قَالَ أَشَعَرْتِ أَنَّ اللَّهَ قَدْ أَفْتَانِي فِيمَا اسْتَفْتَيْتُهُ فِيهِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَمَا ذَاکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ جَائَنِي رَجُلَانِ فَجَلَسَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي وَالْآخَرُ عِنْدَ رِجْلَيَّ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ مَا وَجَعُ الرَّجُلِ قَالَ مَطْبُوبٌ قَالَ مَنْ طَبَّهُ قَالَ لَبِيدُ بْنُ الْأَعْصَمِ قَالَ فِي مَاذَا قَالَ فِي مُشْطٍ وَمُشَاطَةٍ وَجُفِّ طَلْعَةٍ قَالَ فَأَيْنَ هُوَ قَالَ فِي ذَرْوَانَ وَذَرْوَانُ بِئْرٌ فِي بَنِي زُرَيْقٍ قَالَتْ فَأَتَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَی عَائِشَةَ فَقَالَ وَاللَّهِ لَکَأَنَّ مَائَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّائِ وَلَکَأَنَّ نَخْلَهَا رُئُوسُ الشَّيَاطِينِ قَالَتْ فَأَتَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهَا عَنْ الْبِئْرِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَهَلَّا أَخْرَجْتَهُ قَالَ أَمَّا أَنَا فَقَدْ شَفَانِي اللَّهُ وَکَرِهْتُ أَنْ أُثِيرَ عَلَی النَّاسِ شَرًّا زَادَ عِيسَی بْنُ يُونُسَ وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سُحِرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا وَدَعَا وَسَاقَ الْحَدِيثَ
ابراہیم بن منذر، انس بن عیاض، ہشام اپنے والد سے وہ حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ رسول صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم پرجا دوکیا گیا، یہاں تک کہ آپ خیال کرتے کہ ایک کام کرچکے، حالا نکہ نہیں کیا، چناچہ آپ نے اپنے رب سے دعا کی، پھر فرمایا (اے عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ) کیا تو جانتی ہے کہ ﷲ نے مجھے وہ بات بتادی ہے، جو دریافت کرنا چاہتا تھا، حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے پوچھا وہ کیا بات تھی یا رسول ﷲ ، آپ نے فرمایا میرے پاس آدمی آئے ان میں سے ایک میرے سر کے پاس اور دوسرا میرے پا ؤں کے پاس بیٹھ گیا ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے پوچھا، اس آدمی کو کیا تکلیف ہے (دوسرے نے کہا) کہ اس پر جادو کیا گیا ہے (پہلے نے) پوچھا کس نے جادو کیا، جواب دیا لبید بن اعصم نے پوچھا کس چیز میں جواب دیا کنگھی میں اور کنگھی سے نکلے ہوئے میں اور نہر کے غلا ف میں (پہلے نے) پوچھا وہ کہاں ہے (دوسرے نے) کہا ذروان میں اور ذروان بنی زریق میں ایک کنواں ہے، حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے کہ آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اس کنویں کے پاس تشریف لے گئے، پھر حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کے پاس لوٹے، تو فرمایا و ﷲ اس کا پانی مہندی کے نچوڑ کی طرح سرخ ہے اور اس کے پاس کھجوروں کے درخت گویا شیطان کے سر ہیں، حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم واپس آئے اور کنویں کی حالت بیان کی تو میں نے عرض کیا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم آپ نے اس کو نکال کیوں نہیں دیا؟ آپ نے فرمایا ﷲ نے مجھے شفادے دی اور میں نے اچھا نہیں سمجھا کہ لوگوں کو شر پر برانگیختہ کروں، عیسیٰ بن ولیث نے ہشام سے بوا سطہ عروہ، عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نقل کیا کہ آنحضرت پر کسی نے جا دو کردیا تو آپ نے دعا فرمائی، پھر پوری حدیث بیان کی،



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment