Thursday, September 1, 2011

Jild3,Bil-lihaaz Jild Hadith no:1214,TotalNo:5865


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
اجازت لینے کا بیان
باب
کسی جماعت کے پاس ملاقات کو جانے اور وہاں قیلولہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر
5865
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِکٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَهَبَ إِلَی قُبَائٍ يَدْخُلُ عَلَی أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ فَتُطْعِمُهُ وَکَانَتْ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ فَدَخَلَ يَوْمًا فَأَطْعَمَتْهُ فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ يَضْحَکُ قَالَتْ فَقُلْتُ مَا يُضْحِکُکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَرْکَبُونَ ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ مُلُوکًا عَلَی الْأَسِرَّةِ أَوْ قَالَ مِثْلَ الْمُلُوکِ عَلَی الْأَسِرَّةِ شَکَّ إِسْحَاقُ قُلْتُ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَدَعَا ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ فَنَامَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ يَضْحَکُ فَقُلْتُ مَا يُضْحِکُکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَرْکَبُونَ ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ مُلُوکًا عَلَی الْأَسِرَّةِ أَوْ مِثْلَ الْمُلُوکِ عَلَی الْأَسِرَّةِ فَقُلْتُ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ أَنْتِ مِنْ الْأَوَّلِينَ فَرَکِبَتْ الْبَحْرَ زَمَانَ مُعَاوِيَةَ فَصُرِعَتْ عَنْ دَابَّتِهَا حِينَ خَرَجَتْ مِنْ الْبَحْرِ فَهَلَکَتْ
اسماعیل، مالک، اسحاق بن عبد ﷲ بن ابی طلحہ، حضرت انس بن مالک رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں ان کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم جب قباء کی طرف تشریف لے جاتے، تو ام حرام رضی ﷲ تعالیٰ عنہا بنت ملحان کے گھر جاتے، وہ آپ کو کھانا کھلاتیں، ام حرام عبادہ بن صامت رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کی بیوی تھیں، ایک دن آپ تشریف لائے تو ام حرام نے آپ کو کھانا کھلایا اور رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم وہیں سو رہے پھر ہنستے ہوئے بیدار ہوئے، ام حرام نے پوچھا، یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم آپ کو کس چیز نے ہنسایا، آپ نے فرمایا کہ میری امت میں سے کچھ لوگ ﷲ کی راہ میں جہاد کرنے والے خواب میں پیش کئے گئے کہ اس دریا کے وسط میں بادشاہ کی طرح اپنے تخت پر سوار ہیں (راوی کو شک ہے کہ ملوکا علی الاسرۃ مثل الملوک علی الاسرۃ فرمایا) میں نے عرض کیا کہ یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم ﷲ سے دعا کیجئے کہ مجھ کو بھی ان سے بنا دے آپ نے دعا فرما دی پھر آپ سر رکھ کو سو گئے اور ہنسے ہوئے اٹھے میں عرض کیا کہ آپ کیوں ہنس رہے ہیں، آپنے فرمایا میری امت کے غازی میرے سامنے پیش کئے گئے جو اس دریا کے بیچ میں سوار ہیں بادشاہوں کی طرح تخت پر ہیں میں نے عرض کیا دعا کیجئے کہ میں ان میں سے ہوں، آپ نے فرمایا تو پہلوں میں سے ہے- چناچہ ام حرام امیر معاویہ کے زمانے میں دریا میں سوار ہوکر نکلیں تو اپنی سواری سے گر پڑیں اور وفات پاگئیں-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment