کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
اجازت لینے کا بیان
باب
حدیث نمبر
5867
حَدَّثَنَا مُوسَی عَنْ أَبِي عَوَانَةَ حَدَّثَنَا فِرَاسٌ عَنْ عَامِرٍ عَنْ مَسْرُوقٍ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِيِنَ قَالَتْ إِنَّا کُنَّا أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهُ جَمِيعًا لَمْ تُغَادَرْ مِنَّا وَاحِدَةٌ فَأَقْبَلَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا السَّلَام تَمْشِي لَا وَاللَّهِ مَا تَخْفَی مِشْيَتُهَا مِنْ مِشْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَآهَا رَحَّبَ قَالَ مَرْحَبًا بِابْنَتِي ثُمَّ أَجْلَسَهَا عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ شِمَالِهِ ثُمَّ سَارَّهَا فَبَکَتْ بُکَائً شَدِيدًا فَلَمَّا رَأَی حُزْنَهَا سَارَّهَا الثَّانِيَةَ فَإِذَا هِيَ تَضْحَکُ فَقُلْتُ لَهَا أَنَا مِنْ بَيْنِ نِسَائِهِ خَصَّکِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسِّرِّ مِنْ بَيْنِنَا ثُمَّ أَنْتِ تَبْکِينَ فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلْتُهَا عَمَّا سَارَّکِ قَالَتْ مَا کُنْتُ لِأُفْشِيَ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرَّهُ فَلَمَّا تُوُفِّيَ قُلْتُ لَهَا عَزَمْتُ عَلَيْکِ بِمَا لِي عَلَيْکِ مِنْ الْحَقِّ لَمَّا أَخْبَرْتِنِي قَالَتْ أَمَّا الْآنَ فَنَعَمْ فَأَخْبَرَتْنِي قَالَتْ أَمَّا حِينَ سَارَّنِي فِي الْأَمْرِ الْأَوَّلِ فَإِنَّهُ أَخْبَرَنِي أَنَّ جِبْرِيلَ کَانَ يُعَارِضُهُ بِالْقُرْآنِ کُلَّ سَنَةٍ مَرَّةً وَإِنَّهُ قَدْ عَارَضَنِي بِهِ الْعَامَ مَرَّتَيْنِ وَلَا أَرَی الْأَجَلَ إِلَّا قَدْ اقْتَرَبَ فَاتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي فَإِنِّي نِعْمَ السَّلَفُ أَنَا لَکِ قَالَتْ فَبَکَيْتُ بُکَائِي الَّذِي رَأَيْتِ فَلَمَّا رَأَی جَزَعِي سَارَّنِي الثَّانِيَةَ قَالَ يَا فَاطِمَةُ أَلَا تَرْضَيْنَ أَنْ تَکُونِي سَيِّدَةَ نِسَائِ الْمُؤْمِنِينَ أَوْ سَيِّدَةَ نِسَائِ هَذِهِ الْأُمَّةِ
موسیٰ، ابوعوانہ، فراس، عامر، مسروق، حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ ہم سب آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی بیویاں آپ کے پاس جمع تھیں ہم میں کوئی بھی غائب نہ تھی حضرت فاطمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا چلتی ہوئی آئیں اور ان کی چال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی چال سے بہت زیادہ مشابہ تھی جب آپ نے ان کو دیکھا تو خوش آمدید کہا اور فرمایا کہ خوب آئیں پھر اپنے دائیں یا بائیں ان کو بٹھلا یا، پھر ان سے چپکے سے بات کی وہ زور سے رونے لگیں، جب ان کو غمگین ہوتے ہوئے دیکھا تو دوبارہ چپکے سے بات کی، تو وہ ہنسنے لگئیں، میں نے نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں کے درمیان سے کہا کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے درمیان تم سے خاص راز کی بات فرمائی، پھر بھی تم روتی ہو جب رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے گئے تو میں ان سے پوچھا، کیا بات کہی؟ فاطمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے راز کو ظاہر نہیں کرتی جب آپ کی وفات ہو گئی تو میں نے ان سے کہا کہ میں تمہیں قسم دیتی ہوں کہ اس حق کے عوض جو میرا تم پر ہے تم مجھے وہ بات بتا دو، فاطمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا نے کہا ہاں اب بتا دوں گی، چناچہ انہوں نے بتلاتے ہوئے کہا کہ پہلی دفعہ چپکے سے جو بات آپ نے فرمائی (وہ یہ تھی) کہ آپ نے مجے سے بیان کیا کہ جبریل ہر سال میں ایک دفعہ دورہ کرتے تھے، اس سال دوبارہ دورہ کے لئے آئے، اب موت مجھے قریب نظر آرہی ہے، اس لئے ﷲ ڈرو اور صبر کرو میں تمہارے لئے اچھا آگے جانے والا ہوں، چناچہ میں رونے لگی جیسا کہ تم نے دیکھا جب آپ نے میری گھبراہٹ دیکھی تو دوسری بار آپ نے چپکے سے فرمایا کہ اے فاطمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کیا تو یہ پسند نہیں کرتی کہ مومنین کی عورتوں کی سردار ہوجائے یا یہ فرمایا کہ اس امت کی عورتوں کی سردار ہوجائے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment