کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
باب
صراط جہنم کا پل ہے۔
حدیث نمبر
6140
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي سَعِيدٌ وَعَطَائُ بْنُ يَزِيدَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرهُمَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنِي مَحْمُودٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ أُنَاسٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَی رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَالَ هَلْ تُضَارُّونَ فِي الشَّمْسِ لَيْسَ دُونَهَا سَحَابٌ قَالُوا لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ هَلْ تُضَارُّونَ فِي الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ دُونَهُ سَحَابٌ قَالُوا لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَإِنَّکُمْ تَرَوْنَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ کَذَلِکَ يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ فَيَقُولُ مَنْ کَانَ يَعْبُدُ شَيْئًا فَلْيَتَّبِعْهُ فَيَتْبَعُ مَنْ کَانَ يَعْبُدُ الشَّمْسَ وَيَتْبَعُ مَنْ کَانَ يَعْبُدُ الْقَمَرَ وَيَتْبَعُ مَنْ کَانَ يَعْبُدُ الطَّوَاغِيتَ وَتَبْقَی هَذِهِ الْأُمَّةُ فِيهَا مُنَافِقُوهَا فَيَأْتِيهِمْ اللَّهُ فِي غَيْرِ الصُّورَةِ الَّتِي يَعْرِفُونَ فَيَقُولُ أَنَا رَبُّکُمْ فَيَقُولُونَ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْکَ هَذَا مَکَانُنَا حَتَّی يَأْتِيَنَا رَبُّنَا فَإِذَا أَتَانَا رَبُّنَا عَرَفْنَاهُ فَيَأْتِيهِمْ اللَّهُ فِي الصُّورَةِ الَّتِي يَعْرِفُونَ فَيَقُولُ أَنَا رَبُّکُمْ فَيَقُولُونَ أَنْتَ رَبُّنَا فَيَتْبَعُونَهُ وَيُضْرَبُ جِسْرُ جَهَنَّمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَکُونُ أَوَّلَ مَنْ يُجِيزُ وَدُعَائُ الرُّسُلِ يَوْمَئِذٍ اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ وَبِهِ کَلَالِيبُ مِثْلُ شَوْکِ السَّعْدَانِ أَمَا رَأَيْتُمْ شَوْکَ السَّعْدَانِ قَالُوا بَلَی يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَإِنَّهَا مِثْلُ شَوْکِ السَّعْدَانِ غَيْرَ أَنَّهَا لَا يَعْلَمُ قَدْرَ عِظَمِهَا إِلَّا اللَّهُ فَتَخْطَفُ النَّاسَ بِأَعْمَالِهِمْ مِنْهُمْ الْمُوبَقُ بِعَمَلِهِ وَمِنْهُمْ الْمُخَرْدَلُ ثُمَّ يَنْجُو حَتَّی إِذَا فَرَغَ اللَّهُ مِنْ الْقَضَائِ بَيْنَ عِبَادِهِ وَأَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ مِنْ النَّارِ مَنْ أَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ مِمَّنْ کَانَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَمَرَ الْمَلَائِکَةَ أَنْ يُخْرِجُوهُمْ فَيَعْرِفُونَهُمْ بِعَلَامَةِ آثَارِ السُّجُودِ وَحَرَّمَ اللَّهُ عَلَی النَّارِ أَنْ تَأْکُلَ مِنْ ابْنِ آدَمَ أَثَرَ السُّجُودِ فَيُخْرِجُونَهُمْ قَدْ امْتُحِشُوا فَيُصَبُّ عَلَيْهِمْ مَائٌ يُقَالُ لَهُ مَائُ الْحَيَاةِ فَيَنْبُتُونَ نَبَاتَ الْحِبَّةِ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ وَيَبْقَی رَجُلٌ مِنْهُمْ مُقْبِلٌ بِوَجْهِهِ عَلَی النَّارِ فَيَقُولُ يَا رَبِّ قَدْ قَشَبَنِي رِيحُهَا وَأَحْرَقَنِي ذَکَاؤُهَا فَاصْرِفْ وَجْهِي عَنْ النَّارِ فَلَا يَزَالُ يَدْعُو اللَّهَ فَيَقُولُ لَعَلَّکَ إِنْ أَعْطَيْتُکَ أَنْ تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ فَيَقُولُ لَا وَعِزَّتِکَ لَا أَسْأَلُکَ غَيْرَهُ فَيَصْرِفُ وَجْهَهُ عَنْ النَّارِ ثُمَّ يَقُولُ بَعْدَ ذَلِکَ يَا رَبِّ قَرِّبْنِي إِلَی بَابِ الْجَنَّةِ فَيَقُولُ أَلَيْسَ قَدْ زَعَمْتَ أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ وَيْلَکَ ابْنَ آدَمَ مَا أَغْدَرَکَ فَلَا يَزَالُ يَدْعُو فَيَقُولُ لَعَلِّي إِنْ أَعْطَيْتُکَ ذَلِکَ تَسْأَلُنِي غَيْرَهُ فَيَقُولُ لَا وَعِزَّتِکَ لَا أَسْأَلُکَ غَيْرَهُ فَيُعْطِي اللَّهَ مِنْ عُهُودٍ وَمَوَاثِيقَ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهُ فَيُقَرِّبُهُ إِلَی بَابِ الْجَنَّةِ فَإِذَا رَأَی مَا فِيهَا سَکَتَ مَا شَائَ اللَّهُ أَنْ يَسْکُتَ ثُمَّ يَقُولُ رَبِّ أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ ثُمَّ يَقُولُ أَوَلَيْسَ قَدْ زَعَمْتَ أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ وَيْلَکَ يَا ابْنَ آدَمَ مَا أَغْدَرَکَ فَيَقُولُ يَا رَبِّ لَا تَجْعَلْنِي أَشْقَی خَلْقِکَ فَلَا يَزَالُ يَدْعُو حَتَّی يَضْحَکَ فَإِذَا ضَحِکَ مِنْهُ أَذِنَ لَهُ بِالدُّخُولِ فِيهَا فَإِذَا دَخَلَ فِيهَا قِيلَ لَهُ تَمَنَّ مِنْ کَذَا فَيَتَمَنَّی ثُمَّ يُقَالُ لَهُ تَمَنَّ مِنْ کَذَا فَيَتَمَنَّی حَتَّی تَنْقَطِعَ بِهِ الْأَمَانِيُّ فَيَقُولُ لَهُ هَذَا لَکَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَذَلِکَ الرَّجُلُ آخِرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا قَالَ عَطَائٌ وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ جَالِسٌ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ لَا يُغَيِّرُ عَلَيْهِ شَيْئًا مِنْ حَدِيثِهِ حَتَّی انْتَهَی إِلَی قَوْلِهِ هَذَا لَکَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَذَا لَکَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ حَفِظْتُ مِثْلُهُ مَعَهُ
ابوالیمان، شعیب، زہری، سعید وعطا بن یزید، ابوہریرہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے عرض کیا یا رسول ﷲ کیاہم اپنے پروردگار کو قیامت کے دن دیکھیں گے آپ نے فرمایا کہ تمہیں آفتاب دیکھنے سے نقصان پہنچتا ہے جبکہ اس پر بادل نہ ہوں لوگوں نے عرض کیا نہیں یا رسول ﷲ آپ نے فرمایا کہ کیاتمہیں چاند دیکھنے سے لیلۃ القدر میں تکلیف ہوتی ہے جبکہ اس پر بادل نہ ہوں لوگوں نے عرض کیا نہیں یا رسول ﷲ آپ نے فرمایا کہ تم قیامت کے دن اسی طرح دیکھو گے ﷲ لوگوں کو جمع کرے گا اور فرمائے گا کہ جوشخص جس چیز کی عبادت کرتا تھا اس کے ساتھ ہوجائے چناچہ سورج کی عبادت کرنے والا سورج کے ساتھ اور چاند کی عبادت کرنے والا چاند کے ساتھ اور بتوں کی عبادت کرنے والا بتوں کے ساتھ اور یہ امت باقی رہ جائے گی جس میں اس امت کے منافق بھی ہوں گے تو ﷲ تعالی ان کے پاس اس کے علاوہ صورت میں آئے گا جس میں وہ جانتے تھے پھر ﷲ فرمائے گا کہ میں تمہارا پروردگار ہووں تو وہ لوگ کہیں گے کہ ہم تجھ سے ﷲ کی پناہ مانگتے ہیں ہم اسی جگہ رہیں گے جب تک کہ ہمارا پروردگار آءے گا تو ہم لوگ اس کو پہچان لیں گے پھر ﷲ ان کے پاس اس صورت میں آئے گاجس میں وہ جانتے تھے اور کہے گا میں تمہارا پروردگار ہوں وہ لوگ کہیں گے کہ تو ہمارا پروردگار ہے اور وہ لوگ اس کے ساتھ ہوجائیں گے اور جہنم کا پل قائم کیاجائے گا سب سے پہلے میں گزروں گا اور تمام رسولوں کی دعا اس دن اللھم سلم سلم ہوگی اور اس کے ساتھ سعدان کے کانٹے ہوں کیاتم نے سعدان کے کانٹے دیکھیں گے؟ لوگوں نے کہا کہ ہاں یا رسول ﷲ ۔آپ نے فرمایا کہ وہ سعدان کے کانٹے کی طرح ہوں گے مگراس کی بڑائی کی مقدر ﷲ کے سوا کوئی نہیں جانتا وہ کانتے ان کو ان کے اعمال کے موافق اچک لیں گے ان میں سے بعض اپنے عمل کے باعث ہلاک ہونے والے ہوں گے اور بعض کے اعمال رائی کے برابر ہوں گے وہ نجات پائے گا یہاں تک کہ جب ﷲ اپنے بندوں کے فیصلے سے فارغ ہوجائے گا اور لا الہ ﷲ کی شہادت دینے والوں میں سے جو شخص کو نکالناچاہے گا فرشتوں کو حکم دے گا کہ ان کو جہنم سے نکالیں، فرشتے ان کو سجدے کے نشانات کے باعث پہچان لیں گے اور ﷲ نے آگ کو حرام کردیا ہے کہ وہ مسلمان کے سجدے کے نشان کو کھائے۔ چناچہ فرشتے ان کو نکال لیں گے اس حال میں کہ وہ کوئلہ کی طرح ہوں گے پھر ان پر پانی بہایاجائے گا جسے ماء الحیات کہاجاتا ہے اور وہ اس طرح تروتازہ ہوجائیں گے کہ جس طرح کہ دریا کے کنارے کوڑے کرکٹ میں دانہ لگتا ہے ایک شخص دوزخ کی طرف رخ کرکے کھڑا رہے گا اور عرض کرے گا کہ اے پروردگار اس کی ہوا نے جھلسادیا ہے اور اس کی چمک نے جلادیا ہے اس لیے میراچہرہ دوزخ کی طرف سے پھیر دے پس وہ ﷲ سے دعارکرتا رہے گا ﷲ فرمائیں گے کہ اگرمیں تم کو یہ دیدوں تو مجھے امید ہے کہ تو اس کے علاوہ بھی مانگے گا وہ عرض کرے گا کہ تیری عزت کی قسم میں اس کے علاوہ کچھ نہیں مانگوں گا چناچہ اس کامنہ دوزخ کی طرف سے پھیر دے گا پھر اس کے بعد عرض کرے گا کہ اے رب مجھے جنت کے دروازے کے قریب کردے گا ﷲ فرمائیں گے کیاتو نے یہ نہیں کہا تھا کہ اس کے علاوہ مجھ سے کچھ نہیں مانگے گا اے آدم تجھ پر افسوس ہے کہ تو نے عہد شکنی کی وہ اسی طرح دعا کرتا رہے گا ﷲ فرمائے گا کہ مجھے امید ہے کہ اگر میں تجھ کو یہ دیدوں تو اس کے علاوہ تو مجھ سے سوال نہ کرے گا وہ شخص عرض کرے گا کہ تیری عزت کی قسم اب اس کے علاوہ میں تجھ سے کوئی سوال نہ کروں گا پھر ﷲ سے عہدو پیمان باندھے گا کہ اس کے سوا کچھ نہیں سوال کرے گا پس ﷲ اس کوجنت کے دروازے کے قریب کردے گاپس جب اس چیز کو دیکھے گا جوجنت میں ہے تو جب تک ﷲ چاہے گا وہ خاموش رہے گا پھر عرض کیا یارب مجھے جنت میں داخل کردے۔پھر ﷲ فرمائیں گے کہ تو نے نہیں کہا تھا کہ اب اس کے علاوہ کچھ نہیں مانگوں گا افسوس اے ابن آدم۔تونے وعدہ خلاف کیا وہ عرض کرے یارب مجھے اپنی مخلوق میں سب سے زیادہ بدبخت نہ بنا۔ وہ اسی طرح دعا کرتا رہے گا یہاں تک کہ ﷲ تعالی ہنسے گا جب ﷲ ہنسے گا تو جنت میں داخل کردے گا جب وہ جنت میں داخل ہوجائے گا تو ﷲ فرمائیں گے کہ اپنی آرزو بیان کر چناچہ وہ آرزو بیان کرے گا یہاں تک کہ اس کی تمام آرزوئیں ختم ہوجائے گا تو ﷲ اس سے فرمائے گا کہ یہ تیری آرزو ہے اور اتنا ہی اور بھی۔ابوہریرہ نے کہا کہ یہ مرد جنت میں سب سے آخر میں داخل ہونے والوں میں ہوگا۔عطاء کا بیان ہے کہ ابوسعید خدری ابوہریرہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے حدیث میں کوئی اختلاف نہیں کیا، یہاں تک کہ جب ھذالک ومثلہ معہ تک پہنچے تو ابوسعید نے کہا کہ میں نے رسول ﷲ کوفرماتے ہوئے سنا کہ ھذا وعشر وامثالہ۔ابوہریرہ نے کہا کہ میں نے مثلہ معہ کویاد رکھا۔
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment