کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
باب
کثرت سوال اور بے فائد ہ تکلف کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر
6796
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ ح و حَدَّثَنِي مَحْمُودٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ حِينَ زَاغَتْ الشَّمْسُ فَصَلَّی الظُّهْرَ فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ عَلَی الْمِنْبَرِ فَذَکَرَ السَّاعَةَ وَذَکَرَ أَنَّ بَيْنَ يَدَيْهَا أُمُورًا عِظَامًا ثُمَّ قَالَ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَسْأَلَ عَنْ شَيْئٍ فَلْيَسْأَلْ عَنْهُ فَوَاللَّهِ لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْئٍ إِلَّا أَخْبَرْتُکُمْ بِهِ مَا دُمْتُ فِي مَقَامِي هَذَا قَالَ أَنَسٌ فَأَکْثَرَ النَّاسُ الْبُکَائَ وَأَکْثَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقُولَ سَلُونِي فَقَالَ أَنَسٌ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ أَيْنَ مَدْخَلِي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ النَّارُ فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ فَقَالَ مَنْ أَبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَبُوکَ حُذَافَةُ قَالَ ثُمَّ أَکْثَرَ أَنْ يَقُولَ سَلُونِي سَلُونِي فَبَرَکَ عُمَرُ عَلَی رُکْبَتَيْهِ فَقَالَ رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولًا قَالَ فَسَکَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ عُمَرُ ذَلِکَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ عُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ آنِفًا فِي عُرْضِ هَذَا الْحَائِطِ وَأَنَا أُصَلِّي فَلَمْ أَرَ کَالْيَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ
ابوالیمان، شعیب، زہری، (دوسری سند) محمود، عبدالرزاق، معمر، زہری، حضرت انس بن مالک سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم آفتاب ڈھل جانے کے بعد تشریف لائے اور ظہر کی نماز پڑھی جب سلام پھیر چکے تو منبر پر کھڑے ہوئے اور قیامت کا ذکر کیا، کہ اس سے پہلے بہت بڑے امور ہیں پھر فرمایا کہ جو شخص کچھ پوچھنا چاہتا ہے، وہ پوچھ لے، خدا کی قسم، جب تک میں اپنی اس جگہ پر ہوں جو کچھ بھی تم مجھ سے پوچھو گے میں اس کا جواب دوں گا، حضرت انس کا بیان ہے کہ لوگ بہت زیادہ رونے لگے، اور رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم بار بار یہی فرماتے جاتے کہ مجھ سے پوچھ لو، انس کا بیان ہے کہ ایک شخص آپ کے سامنے کھڑے ہوئے اور پوچھا کہ یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم میرے داخل ہونے کی جگہ کہاں ہے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دوزخ،پھر عبداللہ بن حذافہ کھڑے ہوئے اور پوچھا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا باپ کون ہے؟ آپ نے فرمایا کہ تیرا باپ حذافہ ہے، آپ پھر برابر یہی فرماتے رہے، حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ گھٹنوں کے بل کھڑے ہوئے، اور کہا رضینا باﷲ ربا، و بالاسلام دینا، و بمحمد صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم رسولا،جب حضرت عمر نے یہ کہا تو پھر نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہو گئے پھر نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے قسم دے کر کہا اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، میرے سامنے جنت اور دوزخ ابھی اس دیوار کے سامنے پیش کئے گئے ہیں اس وقت میں نماز پڑھ رہا تھا، میں نے آ ج کی طرح خیر و شر نہیں دیکھی-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment