کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
آرزو کرنے کا بیان
باب
لفظ لو (اگر) کے استعمال کے جائز ہونے کا بیان
حدیث نمبر
6748
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْجَدْرِ أَمِنَ الْبَيْتِ هُوَ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ فَمَا لَهُمْ لَمْ يُدْخِلُوهُ فِي الْبَيْتِ قَالَ إِنَّ قَوْمَکِ قَصَّرَتْ بِهِمْ النَّفَقَةُ قُلْتُ فَمَا شَأْنُ بَابِهِ مُرْتَفِعًا قَالَ فَعَلَ ذَاکِ قَوْمُکِ لِيُدْخِلُوا مَنْ شَائُوا وَيَمْنَعُوا مَنْ شَائُوا وَلَوْلَا أَنَّ قَوْمَکِ حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ بِالْجَاهِلِيَّةِ فَأَخَافُ أَنْ تُنْکِرَ قُلُوبُهُمْ أَنْ أُدْخِلَ الْجَدْرَ فِي الْبَيْتِ وَأَنْ أَلْصِقْ بَابَهُ فِي الْأَرْضِ
مسدد، ابوالاحوص، اشعث اسود بن یزید، حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے حطیم کے متعلق پوچھا کہ کیا وہ بھی خانہ کعبہ میں داخل ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں، میں نے پوچھا کہ پھر کیوں اس کو خانہ کعبہ میں داخل نہیں کرتے، آپ نے فرمایا کہ تمہاری قوم کے پاس خرچ کم ہو گیا تھا میں نے پوچھا کہ پھر اس کا دروازہ کیوں نیچا ہے، آپ نے فرمایا کہ تمہاری قوم نے اس لئے ایسا کیا کہ جس کو چاہیں اندر آنے دیں، اور جس کو چاہیں روک دیں، اگر تمہاری قوم کا زمانہ جاہلیت سے قریب نہ ہوتا تو مجھے اندیشہ نہ ہوتا کہ ان کے دل اس کو مکروہ سمجھیں گے، تو میں حطیم کو خانہ کعبہ میں داخل کر دیتا، اور اس کے دروازے کو زمین سے ملا دیتا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment