Wednesday, November 2, 2011

Jild3,Bil-lihaaz Jild Hadith no:2216,TotalNo:6867


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
باب
اللہ تعالی کا قول کہ ان کے معاملات آپس کے مشورے سے طے پاتے ہیں۔
حدیث نمبر
6867
حَدَّثَنَا الْأُوَيْسِيُّ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ وَابْنُ الْمُسَيَّبِ وَعَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ وَعُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الْإِفْکِ مَا قَالُوا قَالَتْ وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَأُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ حِينَ اسْتَلْبَثَ الْوَحْيُ يَسْأَلُهُمَا وَهُوَ يَسْتَشِيرُهُمَا فِي فِرَاقِ أَهْلِهِ فَأَمَّا أُسَامَةُ فَأَشَارَ بِالَّذِي يَعْلَمُ مِنْ بَرَائَةِ أَهْلِهِ وَأَمَّا عَلِيٌّ فَقَالَ لَمْ يُضَيِّقْ اللَّهُ عَلَيْکَ وَالنِّسَائُ سِوَاهَا کَثِيرٌ وَسَلْ الْجَارِيَةَ تَصْدُقْکَ فَقَالَ هَلْ رَأَيْتِ مِنْ شَيْئٍ يَرِيبُکِ قَالَتْ مَا رَأَيْتُ أَمْرًا أَکْثَرَ مِنْ أَنَّهَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ تَنَامُ عَنْ عَجِينِ أَهْلِهَا فَتَأْتِي الدَّاجِنُ فَتَأْکُلُهُ فَقَامَ عَلَی الْمِنْبَرِ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ مَنْ يَعْذِرُنِي مِنْ رَجُلٍ بَلَغَنِي أَذَاهُ فِي أَهْلِي وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَی أَهْلِي إِلَّا خَيْرًا فَذَکَرَ بَرَائَةَ عَائِشَةَ وَقَالَ أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ
اویسی ابراہیم، صالح، ابن شہاب، عروہ بن مسیب، و علقمہ بن وقاص، و عبیدﷲ ، حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں جب بہتان باندھنے والوں نے ان کے متعلق کہا تو حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے علی بن ابی طالب اور اسامہ بن زید کو بلا بھیجا، جب کہ وحی اترنے میں دیر ہوئی تاکہ ان دونوں سے پوچھیں، آپ نے ان دونوں سے اپنی بیوی کو جدا کرنے کے متعلق مشورہ لینے لگے، حضرت اسامہ نے تو جس بنا پروہ جانتے تھے، ان کی بیوی کی پاک دامنی کا مشورہ دیا لیکن حضرت علی نے کہا کہ ﷲ نے آپ پر تنگی نہیں کی ان کے علاوہ بہت سی عورتیں ہیں، آپ لونڈی سے دریافت کر لیں، وہ آپ سے سچ سچ بیان کر دے گی، آپ نے فرمایا کیا تو نے کوئی ایسی بات دیکھی جو تجھے شبہ میں ڈالے، اس نے کہا کہ میں نے اس سے زیادہ نہیں دیکھا وہ کمسن ہے اپنے گھر کا آٹا گوندھ کر سو جاتی ہیں، بکری آ کر کھا جاتی ہے، آپ منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ اے مسلمانو!، کون ایسا ہے جواس شخص کو سزا دے کر میری مدد کرے، جس نے مجھے میری بیوی کے متعلق تکلیف دی، بخدا میں اپنی بیوی کے متعلق سوائے بھلائی کے اور کچھ نہیں جانتا، پھر آپ نے عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کی برأت بیان فرمائی اور ابواسامہ نے ہشام سے نقل کیا-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment