کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
باب
کثرت سوال اور بے فائد ہ تکلف کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر
6793
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَشْيَائَ کَرِهَهَا فَلَمَّا أَکْثَرُوا عَلَيْهِ الْمَسْأَلَةَ غَضِبَ وَقَالَ سَلُونِي فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَبِي قَالَ أَبُوکَ حُذَافَةُ ثُمَّ قَامَ آخَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَبِي فَقَالَ أَبُوکَ سَالِمٌ مَوْلَی شَيْبَةَ فَلَمَّا رَأَی عُمَرُ مَا بِوَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْغَضَبِ قَالَ إِنَّا نَتُوبُ إِلَی اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
یوسف بن موسیٰ، ابواسامہ، برید بن ابی بردہ، ابوبردہ، ابوموسیٰ اشعری رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے چند چیزوں کے متعلق کسی نے سوال کیا، تو آپ نے اس کو ناپسند کیا جب سوالات کی کثرت ہو گئی تو آپ کو غصہ آ گیا اور فرمایا کہ مجھ سے پوچھ لو ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم میرا باپ کون ہے؟ آپ نے فرمایا تیرا باپ ابوحذافہ ہے، پھر ایک دوسرا آدمی کھڑا ہوا ور پوچھا کہ یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم میرا باپ ابوحذافہ پھر ایک دوسرا آدمی کھڑا ہوا اور پوچھا کہ یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم میرا باپ کون ہے، آپ نے فرمایا کہ تیرا باپ سالم، شیبہ کا آزاد کردہ ہے- جب حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے غصب کے آثار دیکھے جو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے سے ظاہر ہو رہے تھے، تو انہوں نے کہا کہ ہم ﷲ بزرگ و برتر کی طرف رجوع کرتے ہیں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment