کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
باب
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی پیروی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر
6784
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَادَةَ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَائَ حَدَّثَنَا أَوْ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ جَائَتْ مَلَائِکَةٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ نَائِمٌ فَقَالَ بَعْضُهُمْ إِنَّهُ نَائِمٌ وَقَالَ بَعْضُهُمْ إِنَّ الْعَيْنَ نَائِمَةٌ وَالْقَلْبَ يَقْظَانُ فَقَالُوا إِنَّ لِصَاحِبِکُمْ هَذَا مَثَلًا فَاضْرِبُوا لَهُ مَثَلًا فَقَالَ بَعْضُهُمْ إِنَّهُ نَائِمٌ وَقَالَ بَعْضُهُمْ إِنَّ الْعَيْنَ نَائِمَةٌ وَالْقَلْبَ يَقْظَانُ فَقَالُوا مَثَلُهُ کَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَی دَارًا وَجَعَلَ فِيهَا مَأْدُبَةً وَبَعَثَ دَاعِيًا فَمَنْ أَجَابَ الدَّاعِيَ دَخَلَ الدَّارَ وَأَکَلَ مِنْ الْمَأْدُبَةِ وَمَنْ لَمْ يُجِبْ الدَّاعِيَ لَمْ يَدْخُلْ الدَّارَ وَلَمْ يَأْکُلْ مِنْ الْمَأْدُبَةِ فَقَالُوا أَوِّلُوهَا لَهُ يَفْقَهْهَا فَقَالَ بَعْضُهُمْ إِنَّهُ نَائِمٌ وَقَالَ بَعْضُهُمْ إِنَّ الْعَيْنَ نَائِمَةٌ وَالْقَلْبَ يَقْظَانُ فَقَالُوا فَالدَّارُ الْجَنَّةُ وَالدَّاعِي مُحَمَّدٌ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَنْ أَطَاعَ مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَمَنْ عَصَی مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدْ عَصَی اللَّهَ وَمُحَمَّدٌ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرْقٌ بَيْنَ النَّاسِ تَابَعَهُ قُتَيْبَةُ عَنْ لَيْثٍ عَنْ خَالِدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ جَابِرٍ خَرَجَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
محمد بن عبادہ، یزید، سلیمان بن حیان، سعید بن میناء، جابر بن عبد ﷲ سے روایت کرتے ہیں وہ بیان کرتے تھے، فرشتے نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اس وقت آپ سوئے ہوئے تھے، بعض نے کہا وہ سوئے ہوئے ہیں اور بعض نے کہا کہ آنکھ سوتی ہے اور قلب بیدار ہے انہوں نے ایک دوسرے سے کہا ان کی ایک مثال ہے وہ مثال تو بیان کرو، بعض نے کہا وہ سوئے ہوئے ہیں بعض نے کہا کہ آنکھ سوتی ہے اور دل بیدار ہے، چناچہ ان لوگوں نے کہا کہ ان کیلئے ایک دستر خوان بچھایا اور ایک شخص بلانے والے کو بھیجا جس نے بلانے والے کی دعوت قبول کی تو وہ گھر میں داخل ہوا اور دستر خوان سے کھایا اور جس نے بلانے والے کی دعوت قبول نہ کی وہ نہ تو گھر میں داخل ہوا اور نہ ہی دستر خوان سے کھایا، ان لوگوں نے کہا کہ وہ تو سوئے ہوئے ہیں اور بعض نے کہا کہ آنکھ سوتی ہے اور قلب بیدار ہوتا ہے، پھر فرمایا کہ گھر تو جنت ہے اور بلانے والے حضرت محمد صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم ہیں، چناچہ جس نے حضرت محمد صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کی، اس نے ﷲ کی اطاعت کی، جس نے حضرت محمد صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی نا فرمانی کی اور اس نے ﷲ کی نا فرمانی کی، اور حضرت محمد صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے درمیان جدا کرنے والے ہیں، قتیبہ نے لیث، بواسطہ خالد، سعید بن ابی ہلال جابر اس کی متابعت میں روایت کرتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment