کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
باب
اس امر کا بیان کہ باہم جھگڑا اور اس میں تعمق اور دین میں غلو اور بدعت مکروہ ہے۔
حدیث نمبر
6802
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيُّ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ خَطَبَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَی مِنْبَرٍ مِنْ آجُرٍّ وَعَلَيْهِ سَيْفٌ فِيهِ صَحِيفَةٌ مُعَلَّقَةٌ فَقَالَ وَاللَّهِ مَا عِنْدَنَا مِنْ کِتَابٍ يُقْرَأُ إِلَّا کِتَابُ اللَّهِ وَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ فَنَشَرَهَا فَإِذَا فِيهَا أَسْنَانُ الْإِبِلِ وَإِذَا فِيهَا الْمَدِينَةُ حَرَمٌ مِنْ عَيْرٍ إِلَی کَذَا فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِکَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا وَإِذَا فِيهِ ذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَی بِهَا أَدْنَاهُمْ فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِکَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا وَإِذَا فِيهَا مَنْ وَالَی قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِکَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا
عمر بن حفص بن غیاث، حفص بن غیاث، اعمش، ابراہیم تیمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ حضرت علی نے ہم لوگوں کے سامنے اینٹ کے منبر پر خطبہ دیا، ان کے پاس تلوار تھی، جس سے ایک صحیفہ لٹکا ہوا تھا اس کو انہوں نے کھولا تو اس میں اونٹ کی دیت کے احکام تھے، اس میں یہ بھی تھا، مدینہ کے عیر سے لے کر فلاں مقام تک حرم ہے، جس نے اس میں کوئی نئی بات پیدا کی (بدعت کی (تو اس پر ﷲ کی اور تمام فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، اس کی نہ کوئی فرض عبادت اور نہ نفل عبادت مقبول ہو گی، اور اس میں یہ بھی لکھا ہے، کہ مسلمانوں کے ذمہ ایک ان میں ایک آدمی یہ بھی کر سکتا ہے، جس نے کسی مسلمان کے عہد کو توڑا تو ﷲ اور فرشتوں کی لعنت ہے اور اس کی نہ کوئی فرض عبادت مقبول ہو گی اور نہ نفل عبادت مقبول ہو گی، اور جس نے کسی قوم سے اپنے مالکوں کی اجازت کے بغیر موالات کیا تو اس پر ﷲ کی اور فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے نہ تو اس کی کوئی فرض عبادت مقبول ہو گی اور نہ کوئی نفل عباد ت مقبول ہو گی-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment