کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
توحید کا بیان
باب
اللہ کا قول کہ اس کا عرش پانی پر تھا۔
حدیث نمبر
6913
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ إِنِّي عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَائَهُ قَوْمٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ فَقَالَ اقْبَلُوا الْبُشْرَی يَا بَنِي تَمِيمٍ قَالُوا بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا فَدَخَلَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ فَقَالَ اقْبَلُوا الْبُشْرَی يَا أَهْلَ الْيَمَنِ إِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ قَالُوا قَبِلْنَا جِئْنَاکَ لِنَتَفَقَّهَ فِي الدِّينِ وَلِنَسْأَلَکَ عَنْ أَوَّلِ هَذَا الْأَمْرِ مَا کَانَ قَالَ کَانَ اللَّهُ وَلَمْ يَکُنْ شَيْئٌ قَبْلَهُ وَکَانَ عَرْشُهُ عَلَی الْمَائِ ثُمَّ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ وَکَتَبَ فِي الذِّکْرِ کُلَّ شَيْئٍ ثُمَّ أَتَانِي رَجُلٌ فَقَالَ يَا عِمْرَانُ أَدْرِکْ نَاقَتَکَ فَقَدْ ذَهَبَتْ فَانْطَلَقْتُ أَطْلُبُهَا فَإِذَا السَّرَابُ يَنْقَطِعُ دُونَهَا وَايْمُ اللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنَّهَا قَدْ ذَهَبَتْ وَلَمْ أَقُمْ
عبدان، ابوحمزہ، اعمش، جامع بن شداد، صفوان بن محرز، عمران بن حصین رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں بنی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا تھا کہ اتنے میں بنو تمیم کے کچھ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ نے فرمایا کہ اے بنی تمیم! خوشخبری قبول کرو، ان لوگوں نے کہا کہ آپ نے ہمیں خوشخبری دی ہے تو کچھ عطا بھی کیجئے، پھر یمن کے کچھ لوگ آئے تو آپ نے فرمایا کہ اہل یمن خوشخبری قبول کرو، اس لئے کہ بنو تمیم نے اس کو قبول نہیں کیا، انہوں نے کہا کہ ہم نے قبول کیا ہم آپ کی خدمت میں اس لئے حاضر ہوئے ہیں کہ دین کی سمجھ حاصل کریں اور آپ سے اس امر (یعنی دنیا) کی ابتداء کے متعلق دریافت کریں کہ (اس سے پہلے) کیا تھا، آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ﷲ تھا اور اس سے پہلے کوئی خبر نہ تھی اور اس کا عرش پانی پر تھا، آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا اور لوح محفوظ میں تمام چیزیں لکھ دیں- پھر میرے پاس ایک شخص آیا اور کہا عمران رضی ﷲ تعالیٰ عنہ اپنی اونٹنی کی خبر لے وہ بھاگ گئی ہے میں اسکو ڈھونڈنے کیلئے چلا تو دیکھا کہ سیراب سے پرے نکل گئی ہے اور خدا کی قسم! مجھے یہ پسند تھا کہ اونٹنی جائے تو جائے لیکن آپ کے پاس سے نہ ہٹوں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment