کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
احکام کا بیان
باب
کیاحاکم غصہ کی حالت میں فیصلہ کرسکتا ہے یا فتوی دے سکتا ہے؟
حدیث نمبر
6672
حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عُمَيْرٍ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَکْرَةَ قَالَ کَتَبَ أَبُو بَکْرَةَ إِلَی ابْنِهِ وَکَانَ بِسِجِسْتَانَ بِأَنْ لَا تَقْضِيَ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَأَنْتَ غَضْبَانُ فَإِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَقْضِيَنَّ حَکَمٌ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ
آدم، شعبہ، عبدالملک بن عمیر، عبدالرحمن بن ابی بکرہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے اپنے بیٹے کو جو سجستان میں تھے لکھ بھیجا کہ دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ کرنا جب کہ تم غصہ کی حالت میں ہب اس لئے کہ میں نے آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کوئی ثالث دو آدمیوں کے درمیان غصہ کی حالت فیصلہ نہ کرے
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment