کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
احکام کا بیان
باب
جو رعیت کا حاکم بنایا گیا اور اس کی خیر خواہی نہ کی
حدیث نمبر
6664
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ عَنْ الْحَسَنِ أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ زِيَادٍ عَادَ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ فَقَالَ لَهُ مَعْقِلٌ إِنِّي مُحَدِّثُکَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ عَبْدٍ اسْتَرْعَاهُ اللَّهُ رَعِيَّةً فَلَمْ يَحُطْهَا بِنَصِيحَةٍ إِلَّا لَمْ يَجِدْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ
ابونعیم، ابوالاشہب، حسن سے روایت کرتے ہیں کہ عبید ﷲ بن زیاد، معقل بن یسار، کے مرض الموت میں عیادت کو گئے تو ان سے معقل نے کہا کہ تجھ سے ایسی حدیث بیان کرتا ہوں جو میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے میں نے نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس بندے نے کسی رعیت کا حاکم بنایا اور خیرخواہی کے ذریعے اس کی حفاظت نہیں کی تو جنت کی خوشبو تک اس کو نہیں پہنچے گی-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment