Tuesday, November 1, 2011

Jild3,Bil-lihaaz Jild Hadith no:2035,TotalNo:6686


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
احکام کا بیان
باب
عمال کے تحفہ کا بیان
حدیث نمبر
6686
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ أَخْبَرَنَا أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ قَالَ اسْتَعْمَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ بَنِي أَسْدٍ يُقَالُ لَهُ ابْنُ الْأُتَبِيَّةِ عَلَی صَدَقَةٍ فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ هَذَا لَکُمْ وَهَذَا أُهْدِيَ لِي فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی الْمِنْبَرِ قَالَ سُفْيَانُ أَيْضًا فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ مَا بَالُ الْعَامِلِ نَبْعَثُهُ فَيَأْتِي يَقُولُ هَذَا لَکَ وَهَذَا لِي فَهَلَّا جَلَسَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ فَيَنْظُرُ أَيُهْدَی لَهُ أَمْ لَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَأْتِي بِشَيْئٍ إِلَّا جَائَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُهُ عَلَی رَقَبَتِهِ إِنْ کَانَ بَعِيرًا لَهُ رُغَائٌ أَوْ بَقَرَةً لَهَا خُوَارٌ أَوْ شَاةً تَيْعَرُ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّی رَأَيْنَا عُفْرَتَيْ إِبْطَيْهِ أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ ثَلَاثًا قَالَ سُفْيَانُ قَصَّهُ عَلَيْنَا الزُّهْرِيُّ وَزَادَ هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ قَالَ سَمِعَ أُذُنَايَ وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنِي وَسَلُوا زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَإِنَّهُ سَمِعَهُ مَعِي وَلَمْ يَقُلْ الزُّهْرِيُّ سَمِعَ أُذُنِي خُوَارٌ صَوْتٌ وَالْجُؤَارُ مِنْ تَجْأَرُونَ کَصَوْتِ الْبَقَرَةِ
علی بن عبد ﷲ ، سفیان، زہری، عروہ، ابوحمید، ساعدی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے بنی اسد کے ایک شخص کو جس کو ابن اتیبہ کہا جاتا تھا صدقہ کاعامل بنا کر بھیجا جب وہ واپس آئے تو کہنے لگا کہ یہ آپ کا ہے اور یہ میرا ہے، تو نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور کہا کہ سفیان نے بھی کہا کہ آپ منبر پر چڑھے اور ﷲ کی حمد وثناء بیان کی پھر فرمایا کہ عامل کا کیا حال ہے، کہ ہم اس کو بھیجتے ہیں تو وہ واپس آکر کہتا ہے کہ یہ تمہارا اور یہ میرا ہے (جومجھے تحفہ میں ملا) تو کیوں نہیں اپنے باپ یا اپنی ماں کے گھر بیٹھتا پھر دیکھتا کہ کیا اسے تحفہ بھیجا جاتا ہے، یا نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے جو عامل جو کچھ بھی رکھے گا، تو قیامت کے دن وہ چیز اس پرسوار ہوگی، اگر وہ اونٹ رکھے گا تو اس کی گردن پر سوار ہوگا اور وہ بولتا ہوگا، اگر گائے ہوگی تو وہ بولتی ہوگی، یا بکری ہوگی تو وہ بولتی ہوگی، پھر آپ نے دونوں ہاتھ اٹھائے، یہاں تک کہ میں نے آپ کے دونوں بغلوں کی سفیدی دیکھی اور فرمایا کہ سن لو، کیا میں نے پہنچا دیا تین بار آپ نے فرمایا، سفیان نے کہا کہ ہم سے زہری نے یہ بیان کیا کہ اور ہشام نے بواسطہ اپنے والد حمید سے زیادہ نقل کیا اور کہا کہ میرے کانوں نے اسے سنا اور آنکھوں نے دیکھا اور یزید بن ثابت سے پوچھ لو انہوں نے بھی میرے ساتھ سنا اور زہری نے یہ لفظ نہیں کہے کہ میرے کانوں نے سنا، خوار سے مراد آواز ہے اور جوار، یجارن سے ماخوذ ہے جسے گائے کی آواز-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment