کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
توحید کا بیان
باب
اللہ تعالی کا قول کہ اللہ سمیع وبصیر ہے۔
حدیث نمبر
6883
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَکُنَّا إِذَا عَلَوْنَا کَبَّرْنَا فَقَالَ ارْبَعُوا عَلَی أَنْفُسِکُمْ فَإِنَّکُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا تَدْعُونَ سَمِيعًا بَصِيرًا قَرِيبًا ثُمَّ أَتَی عَلَيَّ وَأَنَا أَقُولُ فِي نَفْسِي لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ فَقَالَ لِي يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ قُلْ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ فَإِنَّهَا کَنْزٌ مِنْ کُنُوزِ الْجَنَّةِ أَوْ قَالَ أَلَا أَدُلُّکَ بِهِ
سلیمان بن حرب، حماد بن زید، ایوب، ابوعثمان، ابوموسیٰ، سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ہم لوگ سفر میں نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، پس جب ہم لوگ بلندی پر چڑھتے تو تکبیر کہتے آپ نے فرمایا کہ اپنے اوپر نرمی کرو، تم کسی بہرے اور غیرحاضر کو نہیں پکارتے بلکہ تم سننے والے دیکھنے والے کو پکارتے ہو، پھر آپ میرے پاس تشریف لائے اس وقت میں اپنے دل میں َا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ، کہہ رہا تھا، آپ نے مجھ سے فرمایا کہ اے عبدﷲ بن قیس، تو (لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ) کہہ، اس لئے کہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے یا فرمایا کہ میں تم کو (جنت کا خزانہ) نہ بتلاؤں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment