کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
توحید کا بیان
باب
اللہ تعالی کا قول کہ اے پیغمبر آپ کہہ دیجئے کہ اللہ کے نام رحمن کے نام سے جس نام سے بھی پکارواس کے اچھے اچھے نام ہیں۔
حدیث نمبر
6874
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ کُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَائَهُ رَسُولُ إِحْدَی بَنَاتِهِ يَدْعُوهُ إِلَی ابْنِهَا فِي الْمَوْتِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْجِعْ إِلَيْهَا فَأَخْبِرْهَا أَنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَی وَکُلُّ شَيْئٍ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّی فَمُرْهَا فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ فَأَعَادَتْ الرَّسُولَ أَنَّهَا قَدْ أَقْسَمَتْ لَتَأْتِيَنَّهَا فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَامَ مَعَهُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ فَدُفِعَ الصَّبِيُّ إِلَيْهِ وَنَفْسُهُ تَقَعْقَعُ کَأَنَّهَا فِي شَنٍّ فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هَذَا قَالَ هَذِهِ رَحْمَةٌ جَعَلَهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ عِبَادِهِ وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَائَ
ابوالنعمان، حماد بن زید، عاصم، احول، ابوعثمان نہدی، حضرت اسامہ بن زید، سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ہم نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں آپ کی صاحبزادی کا قاصد آپ کے بلانے کو آیا کہ ان کا بیٹا مرنے کے قریب ہے، نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جا کر اس کو خبر کر دے کہ ﷲ کی چیز تھی اس نے لے لی، اور اسی کی ہے، جو اس نے دی، اور ﷲ کے نزدیک ہر چیز کی مدت مقرر ہے، اس لئے اس کو کہہ دے کہ صبر کرے اور اس کو کار ثواب خیال کرے- آپ کی صاحبزادی نے دو بارہ قاصد بھیجا کہ جا کر کہو کہ انہوں نے قسم دے کر کہا ہے کہ آپ تشریف لائیں، آپ کھڑے ہوئے اور آپ کے ساتھ سعد بن عبادہ، معاذ بن جبل بھی کھڑے ہوئے، (وہاں پہنچے) تو بچہ آپ کی گود میں دے دیا گیا اس وقت اس کی سانس اکھڑ رہی تھی، جیسا پرانی مشک کا حال ہوتا ہے، آپ کی آنکھوں سے آنسو بھر آئے، سعد نے عرض کیا یا رسول ﷲ یہ کیا، آپ نے فرمایا کہ یہ مہربانی ہے جو ﷲ اپنے بندوں کے دلوں میں ڈال دیتا ہے، اور ﷲ صرف انہیں بندوں پر مہربانی کرتا ہے جو دوسروں پر مہربانی کرتے ہیں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment