کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
آرزو کرنے کا بیان
باب
اذان ونماز، روزہ، فرائض اور احکام میں سچے آدمی کی خبر واحد کے جائز ہونے کا بیان
حدیث نمبر
6755
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنِي مَالِکٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنْ اثْنَتَيْنِ فَقَالَ لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ أَقَصُرَتْ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمْ نَسِيتَ فَقَالَ أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ فَقَالَ النَّاسُ نَعَمْ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّی رَکْعَتَيْنِ أُخْرَيَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ کَبَّرَ ثُمَّ سَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ثُمَّ رَفَعَ ثُمَّ کَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ ثُمَّ رَفَعَ
اسمعیل، مالک، ایوب، محمد، حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے دو ہی رکعت نماز پڑھ کر فارغ ہو گئے ذوالیدین نے عرض کیا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کیا نماز میں کمی ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں، آپ نے فرمایا کیا ذوالیدین نے سچ کہا ہے، لوگوں نے کہا کہ ہاں، چناچہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور دو رکعتیں اور پڑھیں، پھر سلام پھیرا پھر تکبیر کہی، پھر پہلے سجدوں کی طرح یا اس سے بھی طویل سجدہ کیا، پھر آپ نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور پھر تکبیر کہی، اور پھر پہلے سجدوں کی طرح سجدہ کیا، پھر آپ نے سر اٹھایا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment