کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
احکام کا بیان
باب
اس امر کا بیان کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی دربان نہ تھا
حدیث نمبر
6668
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يَقُولُ لِامْرَأَةٍ مِنْ أَهْلِهِ تَعْرِفِينَ فُلَانَةَ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهَا وَهِيَ تَبْکِي عِنْدَ قَبْرٍ فَقَالَ اتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي فَقَالَتْ إِلَيْکَ عَنِّي فَإِنَّکَ خِلْوٌ مِنْ مُصِيبَتِي قَالَ فَجَاوَزَهَا وَمَضَی فَمَرَّ بِهَا رَجُلٌ فَقَالَ مَا قَالَ لَکِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ مَا عَرَفْتُهُ قَالَ إِنَّهُ لَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَجَائَتْ إِلَی بَابِهِ فَلَمْ تَجِدْ عَلَيْهِ بَوَّابًا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا عَرَفْتُکَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الصَّبْرَ عِنْدَ أَوَّلِ صَدْمَةٍ
اسحاق، عبدالصمد، شعبہ، ثابت بنانی، انس بن مالک رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ اپنے گھر کی ایک عورت سے کہہ رہے تھے کہ کیا تو فلاں عورت کو جانتی ہے اس نے کہا کہ ہاں، انہوں نے کہا کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اس کی قبر کے پاس سے گزرے اس وقت وہ ایک قبر کے رورہی تھی، آپ نے فرمایا کہ خدا سے ڈر اور صبر کر، اس نے کہا کہ تو مجھ سے دور ہو اس لئے کہ تو میری مصیبت سے ناواقف ہے، آپ اس سے آگے بڑھ کر گزر گئے، اس عورت کے پاس سے ایک شخص گزرا اس نے پوچھا کہ تو نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے کیا فرمایا، اس نے عورت نے کہا کہ میں نے ان کو پہچانا نہیں کہ وہ ﷲ کے رسول ہیں، وہ عورت آپ کے دروازے پر پہنچی وہاں کوئی دربان نہ تھا، اس نے اندر جا کر کہا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم خدا کی قسم میں نے آپ کو پہچانا نہیں تھا نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ صبر صدمہ کے شروع ہی میں کرنا چاہیے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment