Saturday, April 9, 2011

Sahi Bukhari, Jild 2, Bil-lihaaz Jild Hadith no:573, Total Hadith no: 3109


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
اللہ تعالیٰ کا فرمان اور اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا دوست بنایا۔
حدیث نمبر
3109
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِيرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ النُّعْمَانِ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّکُمْ مَحْشُورُونَ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا ثُمَّ قَرَأَ کَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا کُنَّا فَاعِلِينَ وَأَوَّلُ مَنْ يُکْسَی يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِبْرَاهِيمُ وَإِنَّ أُنَاسًا مِنْ أَصْحَابِي يُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ فَأَقُولُ أَصْحَابِي أَصْحَابِي فَيَقُولُ إِنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَی أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ فَأَقُولُ کَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ وَکُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي إِلَی قَوْلِهِ الْعَزِيزُ الْحَکِيمُ
محمد بن کثیر سفیان مغیرہ بن نعمان سعید بن جبیر حضرت ابن عباس رضی ﷲ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تمہارا حشر برہنہ پا ننگے بدن اور بغیر ختنہ کے ہو گا پھر آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی  جس کا ترجمہ ہے(ہم نے ابتدا میں جس طرح پیدا کیا تھا اسی طرح ہم دوبارہ لوٹائیں گے یہ ہمارا وعدہ ہمارے ذمہ ہے اور ہم اسے ضرور پورا کریں گے) اور قیامت کے دن سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کپڑے پہنائے جائیں گے اور (اس روز) میرے چند اصحاب کو بائیں جانب لے جایا جارہا ہو گا تو میں کہوں گا یہ تو میرے اصحاب ہیں تو ﷲ تعالیٰ فرمائے گا آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کی جدائی کے یہ لوگ اپنے پچھلے دین کی طرف لوٹ گئے سو میں اس وقت ایسا کہوں گا جیسے ﷲ کے نیک بندے (عیسیٰ علیہ السلام) نے کہا تھا اور میں ان پر گواہ رہا جب تک ان میں رہا جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ان کا نگران رہا۔



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

Friday, April 8, 2011

Sahi Bukhari, Jild 2, Bil-lihaaz Jild Hadith no:572, Total Hadith no: 3108


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
فرمان الٰہی اور یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذوالقرنین کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔
حدیث نمبر
3108
حَدَّثَنِا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَی يَا آدَمُ فَيَقُولُ لَبَّيْکَ وَسَعْدَيْکَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْکَ فَيَقُولُ أَخْرِجْ بَعْثَ النَّارِ قَالَ وَمَا بَعْثُ النَّارِ قَالَ مِنْ کُلِّ أَلْفٍ تِسْعَ مِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ فَعِنْدَهُ يَشِيبُ الصَّغِيرُ وَتَضَعُ کُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَی النَّاسَ سُکَارَی وَمَا هُمْ بِسُکَارَی وَلَکِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَيُّنَا ذَلِکَ الْوَاحِدُ قَالَ أَبْشِرُوا فَإِنَّ مِنْکُمْ رَجُلًا وَمِنْ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ أَلْفًا ثُمَّ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي أَرْجُو أَنْ تَکُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَکَبَّرْنَا فَقَالَ أَرْجُو أَنْ تَکُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَکَبَّرْنَا فَقَالَ أَرْجُو أَنْ تَکُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَکَبَّرْنَا فَقَالَ مَا أَنْتُمْ فِي النَّاسِ إِلَّا کَالشَّعَرَةِ السَّوْدَائِ فِي جِلْدِ ثَوْرٍ أَبْيَضَ أَوْ کَشَعَرَةٍ بَيْضَائَ فِي جِلْدِ ثَوْرٍ أَسْوَدَ
اسحق بن نصر ابو اسامہ اعمش ابو صالح حضرت ابوسعید خدری رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ﷲ تعالیٰ (قیامت کے روز) فرمائے گا اے آدم! عرض کریں گے میں حاضر ہوں اور شرف یا ب ہوں اور ہر طرح کی بھلائی سب تیرے ہاتھ میں ہے ﷲ فرمائے گا دوزخ میں جانے والا لشکر نکالو وہ عرض کرینگے دوزخ کا کتنا لشکر ہے ﷲ فرمائے گا فی ہزار نو سو ننانوے (دوزخ میں اور ایک جنت میں جائے گا پس وہ ایسا وقت ہو گا کہ (خوف کے مارے) بچے بوڑھے ہو جائیں گے اور ہر حاملہ کا حمل گر جائے گا اور تم کو لوگ نشہ کی سی حالت میں (لغزیدہ گام و سراسیمہ) نظر آئیں گے حالانکہ وہ نشہ میں نہ ہونگے بلکہ خدا کا عذاب سخت ہو گا صحابہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا یا رسول ﷲ (جنت میں فی ہزار ایک جانے والا) ہم میں سے کون ہو گا آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا خوش ہو جاؤ کیونکہ تم میں ایک آدمی ہو گا اور یاجوج ماجو ج میں سے ایک ہزار پھر آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا چوتھا حصہ ہو گے تو ہم لوگوں نے تکبیر کہی پھر آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا تہائی حصہ ہو گے ہم نے پھر تکبیر کہی تو آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا نصف حصہ ہو گے (یعنی نصف تم اور نصف دوسرے لوگ) ہم نے پھر تکبیر کہی آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا تم تو اور لوگوں کے مقابلہ میں ایسے ہو جیسے سیاہ بال سفید بیل کے جسم پر یا سفید بال سیاہ بیل کے جسم پر-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

Sahi Bukhari, Jild 2, Bil-lihaaz Jild Hadith no:571, Total Hadith no: 3107


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
فرمان الٰہی اور یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذوالقرنین کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔
حدیث نمبر
3107
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَتَحَ اللَّهُ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلَ هَذَا وَعَقَدَ بِيَدِهِ تِسْعِينَ
مسلم بن ابراہیم وہیب ابن طاؤس ان کے والد حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسات مآب صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ﷲ تعالیٰ نے یاجوج ماجوج کی اتنی دیوار کھول دی ہے اور آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے نوے کے ہندسے کا حلقہ بنایا-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

Sahi Bukhari, Jild 2, Bil-lihaaz Jild Hadith no:570, Total Hadith no: 3106


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
فرمان الٰہی اور یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذوالقرنین کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔
حدیث نمبر
3106
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ بُکَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَزِعًا يَقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدْ اقْتَرَبَ فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ وَحَلَّقَ بِإِصْبَعِهِ الْإِبْهَامِ وَالَّتِي تَلِيهَا قَالَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَهْلِکُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ قَالَ نَعَمْ إِذَا کَثُرَ الْخَبَثُ
یحییٰ بن بکیر لیث عقیل ابن شہاب عروہ بن زبیر زینب بنت ابو سلمہ حضرت ام حبیبہ بنت ابو سفیان حضرت زینب بنت جحش رضی ﷲ عنہن سے روایت کرتی ہے کہ رسالت مآب صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم ایک دن ان کے پاس گھبرائے ہوئے تشریف لائے اور آپ صلی ﷲ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ لا الہ الا ﷲ عرب کی خرابی ہو اس شر سے جو قریب آ گیا آپ نے انگوٹھے اور شہادت والی انگلی کا حلقہ بنا کر اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ آج اس کے برابر یاجوج ماجوج نے دیوار میں سوراخ کر لیا ہے حضرت زینب نے عرض کیا یا رسول ﷲ کیا ہم ہلاک ہو جائیں گے حالانکہ ہم میں نیک لوگ بھی ہیں- آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! اس وقت جبکہ فسق وفجور کی زیادتی ہو جائے گی-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

Sahi Bukhari, Jild 2, Bil-lihaaz Jild Hadith no:569, Total Hadith no: 3105


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
فرمان خداوندی اور رہے عاد تو انہیں بہت تیز اور سخت ہوا سے برباد کر دیا گیا۔
حدیث نمبر
3105
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ الْأَسْوَدِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فَهَلْ مِنْ مُدَّکِرٍ
خالد بن یزید اسرائیل ابواسحق اسود عبدﷲ بن مسعود رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے  فَهَلْ مِنْ مُدَّکِرٍ (مشہور قرات کے مطابق) پڑھتے سنا ہے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

Sahi Bukhari, Jild 2, Bil-lihaaz Jild Hadith no:568, Total Hadith no: 3104


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
فرمان خداوندی اور رہے عاد تو انہیں بہت تیز اور سخت ہوا سے برباد کر دیا گیا۔
حدیث نمبر
3104
حَدَّثَنِا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَکَمِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نُصِرْتُ بِالصَّبَا وَأُهْلِکَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ قَالَ وَقَالَ ابْنُ کَثِيرٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذُهَيْبَةٍ فَقَسَمَهَا بَيْنَ الْأَرْبَعَةِ الْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ الْحَنْظَلِيِّ ثُمَّ الْمُجَاشِعِيِّ وَعُيَيْنَةَ بْنِ بَدْرٍ الْفَزَارِيِّ وَزَيْدٍ الطَّائِيِّ ثُمَّ أَحَدِ بَنِي نَبْهَانَ وَعَلْقَمَةَ بْنِ عُلَاثَةَ الْعَامِرِيِّ ثُمَّ أَحَدِ بَنِي کِلَابٍ فَغَضِبَتْ قُرَيْشٌ وَالْأَنْصَارُ قَالُوا يُعْطِي صَنَادِيدَ أَهْلِ نَجْدٍ وَيَدَعُنَا قَالَ إِنَّمَا أَتَأَلَّفُهُمْ فَأَقْبَلَ رَجُلٌ غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ نَاتِئُ الْجَبِينِ کَثُّ اللِّحْيَةِ مَحْلُوقٌ فَقَالَ اتَّقِ اللَّهَ يَا مُحَمَّدُ فَقَالَ مَنْ يُطِعْ اللَّهَ إِذَا عَصَيْتُ أَيَأْمَنُنِي اللَّهُ عَلَی أَهْلِ الْأَرْضِ فَلَا تَأْمَنُونِي فَسَأَلَهُ رَجُلٌ قَتْلَهُ أَحْسِبُهُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ فَمَنَعَهُ فَلَمَّا وَلَّی قَالَ إِنَّ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا أَوْ فِي عَقِبِ هَذَا قَوْمًا يَقْرَئُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنْ الرَّمِيَّةِ يَقْتُلُونَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ وَيَدَعُونَ أَهْلَ الْأَوْثَانِ لَئِنْ أَنَا أَدْرَکْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ عَادٍ
محمد بن عر عرہ شعبہ حکم مجاہد حضرت ابن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پچھوا ہو اسے میری مدد ہوئی اور پروا ہوا سے عاد ہلاک ہوئے ابن کثیر سفیان ان کے والد ابن ابو نعیم حضرت سعید خدری رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی ﷲ عنہ نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو کچھ سونا بھیجا تو آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے اسے چار آدمیوں میں تقسیم کر دیا اقرع بن حابس حنظلی ثم المجاشعی عیینہ بن بدر فزاری زید طائیجو بعد میں بنو نبہاں میں شامل ہو گئے اور علقمہ بن علاثہ عامری جو بعد میں بنو کلاب سے متعلق ہو گئے تو قریش و انصار اس پر ناراض ہو گئے اور کہنے لگے کہ یہ اہل نجد کے سرداروں کو دیتے ہیں ہمیں نہیں دیتے آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ان کی تالیف کرتا ہوں پھر ایک شخص سامنے آیا جس کی آنکھیں اندر دھنسی ہوئی اور رخسار ابھرے ہوئے تھے پیشانی اونچی داڑھی گھنی اور سر منڈا ہوا تھا اس نے کہا اے محمد! خدا سے ڈرو آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میں ہی خدا کی نافرمانی کرنے لگوں تو پھر اس کی اطاعت کون کرے گا ﷲ نے تو مجھے زمین والوں پر امین بنایا ہے اور تم مجھے امین نہیں سمجھتے پھر آپ صلی ﷲ علیہ وسلم سے ایک شخص نے شاید وہ خالد بن ولید تھے اس کے قتل کرنے کی اجازت مانگی مگر آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے انہیں منع کر دیا جب وہ شخص واپس چلا گیا تو آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص کی نسل میں یا فرمایا کہ اس کے بعد کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گا وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے اہل اسلام کو تو قتل کریں گے لیکن بت پرستوں کو ہاتھ بھی نہ لگائیں گے اگر میں انہیں پاتا تو عاد کی طرح انہیں قتل کر دیتا-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

Sahi Bukhari, Jild 2, Bil-lihaaz Jild Hadith no:567, Total Hadith no: 3103


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
حضرت ادریس علیہ السلام کا بیان۔
حدیث نمبر
3103
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ ح حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ کَانَ أَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فُرِجَ سَقْفُ بَيْتِي وَأَنَا بِمَکَّةَ فَنَزَلَ جِبْرِيلُ فَفَرَجَ صَدْرِي ثُمَّ غَسَلَهُ بِمَائِ زَمْزَمَ ثُمَّ جَائَ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مُمْتَلِئٍ حِکْمَةً وَإِيمَانًا فَأَفْرَغَهَا فِي صَدْرِي ثُمَّ أَطْبَقَهُ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَعَرَجَ بِي إِلَی السَّمَائِ فَلَمَّا جَائَ إِلَی السَّمَائِ الدُّنْيَا قَالَ جِبْرِيلُ لِخَازِنِ السَّمَائِ افْتَحْ قَالَ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا جِبْرِيلُ قَالَ مَعَکَ أَحَدٌ قَالَ مَعِي مُحَمَّدٌ قَالَ أُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ نَعَمْ فَافْتَحْ فَلَمَّا عَلَوْنَا السَّمَائَ الدُّنْيَا إِذَا رَجُلٌ عَنْ يَمِينِهِ أَسْوِدَةٌ وَعَنْ يَسَارِهِ أَسْوِدَةٌ فَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ ضَحِکَ وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ شِمَالِهِ بَکَی فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالِابْنِ الصَّالِحِ قُلْتُ مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَذَا آدَمُ وَهَذِهِ الْأَسْوِدَةُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ نَسَمُ بَنِيهِ فَأَهْلُ الْيَمِينِ مِنْهُمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ وَالْأَسْوِدَةُ الَّتِي عَنْ شِمَالِهِ أَهْلُ النَّارِ فَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ ضَحِکَ وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ شِمَالِهِ بَکَی ثُمَّ عَرَجَ بِي جِبْرِيلُ حَتَّی أَتَی السَّمَائَ الثَّانِيَةَ فَقَالَ لِخَازِنِهَا افْتَحْ فَقَالَ لَهُ خَازِنُهَا مِثْلَ مَا قَالَ الْأَوَّلُ فَفَتَحَ قَالَ أَنَسٌ فَذَکَرَ أَنَّهُ وَجَدَ فِي السَّمَوَاتِ إِدْرِيسَ وَمُوسَی وَعِيسَی وَإِبْرَاهِيمَ وَلَمْ يُثْبِتْ لِي کَيْفَ مَنَازِلُهُمْ غَيْرَ أَنَّهُ قَدْ ذَکَرَ أَنَّهُ وَجَدَ آدَمَ فِي السَّمَائِ الدُّنْيَا وَإِبْرَاهِيمَ فِي السَّادِسَةِ وَقَالَ أَنَسٌ فَلَمَّا مَرَّ جِبْرِيلُ بِإِدْرِيسَ قَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالْأَخِ الصَّالِحِ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا إِدْرِيسُ ثُمَّ مَرَرْتُ بِمُوسَی فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالْأَخِ الصَّالِحِ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا مُوسَی ثُمَّ مَرَرْتُ بِعِيسَی فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالْأَخِ الصَّالِحِ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَ عِيسَی ثُمَّ مَرَرْتُ بِإِبْرَاهِيمَ فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالِابْنِ الصَّالِحِ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا إِبْرَاهِيمُ قَالَ وَأَخْبَرَنِي ابْنُ حَزْمٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ وَأَبَا حَيَّةَ الْأَنْصَارِيَّ کَانَا يَقُولَانِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ عُرِجَ بِي حَتَّی ظَهَرْتُ لِمُسْتَوًی أَسْمَعُ صَرِيفَ الْأَقْلَامِ قَالَ ابْنُ حَزْمٍ وَأَنَسُ بْنُ مَالِکٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ خَمْسِينَ صَلَاةً فَرَجَعْتُ بِذَلِکَ حَتَّی أَمُرَّ بِمُوسَی فَقَالَ مُوسَی مَا الَّذِي فَرَضَ عَلَی أُمَّتِکَ قُلْتُ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسِينَ صَلَاةً قَالَ فَرَاجِعْ رَبَّکَ فَإِنَّ أُمَّتَکَ لَا تُطِيقُ ذَلِکَ فَرَجَعْتُ فَرَاجَعْتُ رَبِّي فَوَضَعَ شَطْرَهَا فَرَجَعْتُ إِلَی مُوسَی فَقَالَ رَاجِعْ رَبَّکَ فَذَکَرَ مِثْلَهُ فَوَضَعَ شَطْرَهَا فَرَجَعْتُ إِلَی مُوسَی فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ رَاجِعْ رَبَّکَ فَإِنَّ أُمَّتَکَ لَا تُطِيقُ ذَلِکَ فَرَجَعْتُ فَرَاجَعْتُ رَبِّي فَقَالَ هِيَ خَمْسٌ وَهِيَ خَمْسُونَ لَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ فَرَجَعْتُ إِلَی مُوسَی فَقَالَ رَاجِعْ رَبَّکَ فَقُلْتُ قَدْ اسْتَحْيَيْتُ مِنْ رَبِّي ثُمَّ انْطَلَقَ حَتَّی أَتَی بِي السِّدْرَةَ الْمُنْتَهَی فَغَشِيَهَا أَلْوَانٌ لَا أَدْرِي مَا هِيَ ثُمَّ أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا فِيهَا جَنَابِذُ اللُّؤْلُؤِ وَإِذَا تُرَابُهَا الْمِسْکُ
احمد بن صالح عنبسہ یونس ابن شہاب انس حضرت ابو ذر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ (شب معراج میں) میرے مکان کی چھت کھلی اور میں (اس وقت) مکہ میں تھا پس جبرئیل آئے اور انہوں نے میرا سینہ چاک کیا پھر اسے آب زمزم سے دھویا پھر سونے کا ایک طشت جو حکمت و ایمان سے بھرا ہوا تھا لائے اور اسے میرے سینے میں انڈیل دیا میرا سینہ سی کر برابر کردیا پھر میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے آسمان کی طرف چڑھا لے گئے جب آسمان دنیا پر پہنچے تو جبرئیل نے اس آسمان کے داروغہ سے کہا کہ دروازہ کھولئے اس نے پوچھا کون ہے؟ انہوں نے کہا جبرئیل ہے انہوں نے پوچھا کیا آپ کے ساتھ کوئی اور بھی ہے؟ انہوں نے کہا میرے ساتھ محمد صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم ہیں اس نے پوچھا کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ انہوں نے کہا ہاں! دروازہ کھولئے جب ہم آسمان پر چلے گئے تو ایک آدمی دیکھا جس کی داہنی طرف بھی کچھ آدمی تھے اور بائیں طرف بھی جب وہ انی داہنی طرف (والوں) کو دیکھتا ہے تو ہنسنے لگتا ہے اور جب بائیں طرف والوں کو دیکھتا ہے تو رونے لگتا ہے اس نے (مجھے دیکھ کر) کہا! اے نبی صالح اور اے پسر صالح مرحبا میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ جبرئیل نے جواب دیا یہ آدم ہیں اور جو لوگ ان کی داہنی اور بائیں طرف ہیں یہ ان کی اولاد کی روحیں ہیں داہنی طرف والے تو اہل جنت ہیں اور بائیں طرف والے اہل دوزخ تو جب داہنی طرف دیکھتے ہیں تو ہنستے ہیں اور جب بائیں طرف دیکھتے ہیں تو روتے ہیں پھر جبرئیل مجھے اور اوپر چڑھا لے گئے حتیٰ کہ دوسرے آسمان پر پہنچے پس جبرئیل علیہ السلام نے اس کے داروغہ سے وہی کہا جو پہلے کہا تھا اس نے دروازہ کھول دیا انس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ابو ذر نے بیان کیا کہ آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے آسمانوں میں اور پس موسیٰ عیسیٰ اور ابراہیم (علیہم السلام) کو دیکھا ابو ذر نے ان کے مقامات و مراتب مجھ سے بیان نہیں کئے سوائے اس کے کہ ابو ذر نے یہ بیان ضرور کیا کہ آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم نے آدم کو آسمان دنیا اور ابراہیم کو چھٹے آسمان پر دیکھا- انس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ جب جبرئیل کا گزر (آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم کی ہمراہی میں) ادریس علیہ السلام کے پاس ہوا تو انہوں نے کہا اے نبی صالح اور اے برادر صالح مرحبا! میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ تو جبرئیل نے کہا یہ ادریس ہیں پھر میں موسیٰ کے پاس سے گزرا تو انہوں نے کہا نبی صالح اور برادر صالح مرحبا میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ تو جبرئیل نے کہا یہ موسیٰ ہیں پھر میرا گزر عیسیٰ کے پاس ہوا تو انہوں نے کہا نبی صالح اور برادر صالح مرحبا! میں نے پوچھا یہ کون ہے تو جبرئیل نے کہا یہ عیسیٰ ہیں پھر ابراہیم کے پاس سے میرا گزر ہوا تو انہوں نے نبی صالح اور پسر صالح مرحبا! میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ تو جبریل نے کہا یہ ابراہیم ہیں ابن شہاب کہتے ہیں کہ ابن حزم نے بیان کیا ہے کہ ابن عباس و ابو حیہ انصاری کہا کرتے تھے کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پھر مجھے اوپر چڑھایا گیا حتیٰ کہ میں ایک ہموار مقام میں پہنچا جہاں سے قلموں کی کشش کی آواز سن رہا تھا ابن حزم و انس بن مالک نے کہا کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ﷲ نے میرے اوپر پچاس (وقت کی) نمازیں فرض کی تو میں اس حکم کو لے کر واپس آیا حتیٰ کہ میرا گزر موسی علیہ السلام کے پاس سے ہوا تو موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا کہ ﷲ نے آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کی امت پر کیا فرض کیا ہے؟ میں نے کہا پچاس نمازیں موسی علیہ السلام نے کہا آپ اپنے پروردگار سے دوبارہ کہئے کیونکہ آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کی امت میں اتنی طاقت نہیں ہے تو میں واپس گیا اور اپنے پروردگار سے دوبارہ عرض کیا تو ﷲ تعالیٰ نے اس کا ایک حصہ معاف فرمایا پھر میں موسی کے پاس واپس آیا تو انہوں نے اپنے پروردگار سے پھر کہئے اور انہوں نے ویسا ہی کیا تو انہوں نے پھر ایک حصہ معاف کردیا میں پھر موسیٰ کے پاس واپس آیا اور میں نے انہیں بتایا تو انہوں نے کہا اپنے پروردگار سے پھر عرض کیجئے کیونکہ آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کی امت میں اس کی طاقت نہیں میں نے واپس آکر پھر پروردگار سے کہا تو اس نے فرمایا کہ یہ پانچ نمازیں (باقی رکھی جاتی ہیں) اور یہ ثواب میں پچاس نمازوں کے برابر ہیں میرے پاس بات نہیں بدلی جاتی پھر میں موسیٰ کے پاس واپس آیا تو انہوں نے کہا اپنے پروردگا سے پھر عرض کیجئے تو میں نے کہا کہ اب تو مجھے اپنے پروردگار سے شرم آتی ہے پھر مجھے جبریل لے کر سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچے اس پر کچھ عجیب قسم کے ایسے رنگ نظر آ رہے تھے جنہیں میں بیان نہیں کر سکتا پھر مجھے جنت میں داخل کیا گیا تو اس کے سنگریزے موتی تھے اور اس کی مٹی مشک تھی-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

Sahi Bukhari, Jild 2, Bil-lihaaz Jild Hadith no:566, Total Hadith no: 3102


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
فرمان الٰہی بے شک ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا۔
حدیث نمبر
3102
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ فَهَلْ مِنْ مُدَّکِرٍ مِثْلَ قِرَائَةِ الْعَامَّةِ
نصر بن علی بن نصر ابو احمد سفیان ابو اسحاق اسود بن یزید حضرت عبدﷲ رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسالت مآب صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے  فَهَلْ مِنْ مُدَّکِرٍ(یعنی کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا) مشہور قرات کے موافق پڑھا-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

Sahi Bukhari, Jild 2, Bil-lihaaz Jild Hadith no:565, Total Hadith no: 3101


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
فرمان الٰہی بے شک ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا۔
حدیث نمبر
3101
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَعْوَةٍ فَرُفِعَ إِلَيْهِ الذِّرَاعُ وَکَانَتْ تُعْجِبُهُ فَنَهَسَ مِنْهَا نَهْسَةً وَقَالَ أَنَا سَيِّدُ الْقَوْمِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ هَلْ تَدْرُونَ بِمَ يَجْمَعُ اللَّهُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ فَيُبْصِرُهُمْ النَّاظِرُ وَيُسْمِعُهُمْ الدَّاعِي وَتَدْنُو مِنْهُمْ الشَّمْسُ فَيَقُولُ بَعْضُ النَّاسِ أَلَا تَرَوْنَ إِلَی مَا أَنْتُمْ فِيهِ إِلَی مَا بَلَغَکُمْ أَلَا تَنْظُرُونَ إِلَی مَنْ يَشْفَعُ لَکُمْ إِلَی رَبِّکُمْ فَيَقُولُ بَعْضُ النَّاسِ أَبُوکُمْ آدَمُ فَيَأْتُونَهُ فَيَقُولُونَ يَا آدَمُ أَنْتَ أَبُو الْبَشَرِ خَلَقَکَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَنَفَخَ فِيکَ مِنْ رُوحِهِ وَأَمَرَ الْمَلَائِکَةَ فَسَجَدُوا لَکَ وَأَسْکَنَکَ الْجَنَّةَ أَلَا تَشْفَعُ لَنَا إِلَی رَبِّکَ أَلَا تَرَی مَا نَحْنُ فِيهِ وَمَا بَلَغَنَا فَيَقُولُ رَبِّي غَضِبَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَا يَغْضَبُ بَعْدَهُ مِثْلَهُ وَنَهَانِي عَنْ الشَّجَرَةِ فَعَصَيْتُهُ نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَی غَيْرِي اذْهَبُوا إِلَی نُوحٍ فَيَأْتُونَ نُوحًا فَيَقُولُونَ يَا نُوحُ أَنْتَ أَوَّلُ الرُّسُلِ إِلَی أَهْلِ الْأَرْضِ وَسَمَّاکَ اللَّهُ عَبْدًا شَکُورًا أَمَا تَرَی إِلَی مَا نَحْنُ فِيهِ أَلَا تَرَی إِلَی مَا بَلَغَنَا أَلَا تَشْفَعُ لَنَا إِلَی رَبِّکَ فَيَقُولُ رَبِّي غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَا يَغْضَبُ بَعْدَهُ مِثْلَهُ نَفْسِي نَفْسِي ائْتُوا النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَأْتُونِي فَأَسْجُدُ تَحْتَ الْعَرْشِ فَيُقَالُ يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَکَ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ وَسَلْ تُعْطَهْ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ لَا أَحْفَظُ سَائِرَهُ
اسحق بن نصر محمد بن عبید ابو حیان ابو زرعہ حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے ساتھ ایک دعوت میں تھے آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کے سامنے دست پیش کیا گیا اور آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کو دست کا گوشت مرغوب تھا تو آپ صلی ﷲ علیہ وسلم اس میں سے نوچ نوچ کر کھانے لگے اور فرمایا کہ میں قیامت کے دن تمام آدمیوں کا سردار ہوں گا کیا تم جانتے ہو کس لئے؟ وجہ یہ ہے کہ ﷲ تعالیٰ قیامت کے دن تمام اگلے پچھلے لوگوں کو ہموار میدان میں جمع کرے گا اس طرح کہ دیکھنے والا ان سب کو دیکھ سکے اور پکارنے والا انہیں اپنی آواز سنا سکے اور آفتاب ان کے (بہت) قریب آ جائے گا پس بعض آدمی کہیں گے کہ تم دیکھتے نہیں کہ تمہاری کیا حالت ہو رہی ہے اور تمہیں کتنی مشقت پہنچ رہی ہے یا تم ایسے شخص کو نہیں دیکھو گے جو ﷲ سے تمہاری سفارش کرے دوسرے لوگ کہیں گے، اپنے باپ آدم کے پاس چلو، تو وہ انکے پاس آکر کہیں گے، کہ آدم آپ تمام انسانوں کے باپ ہیں آپ کو ﷲ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کر کے اپنی روح آپ کے اندر پھونکی اور فرشتوں کو حکم دیا تو انہوں نے آپ کو سجدہ کیا اور آپ کو جنت میں ٹھہرایا کیا اپنے رب سے آپ ہماری سفارش نہیں کرینگے؟ کیا آپ ہماری حالت اور ہماری مشقت کا مشاہدہ نہیں فرما رہے وہ فرمائیں گے کہ آج ﷲ اتنا غضب ناک ہے کہ نہ اس سے پہلے ایسا غضبناک ہوا نہ آئندہ ہو گا اور اس نے مجھے درخت کا پھل کھانے سے منع کیا تھا مگر میں نے نافرمانی کی مجھے تو خود اپنی جان کی پڑی ہے لہذا کسی دوسرے کے پاس جاؤ (ہاں) نوح کے پاس چلے جاؤ تو وہ نوح کے پاس آ کر کہیں گے کہ اے نوح آپ دنیا میں سب سے پہلے (تشریعی) رسول ہیں اور ﷲ نے آپ کو شکر گزار بندہ کا خطاب عطا فرمایا ہے کیا آپ ہماری حالت کا معائنہ نہیں فرما رہے کیا آپ اپنے رب سے ہماری سفارش نہیں کریں گے وہ فرمائیں گے کہ آج ﷲ اتنا غضبناک ہے کہ اس سے قبل ایسا غضبناک نہ ہوا نہ آئندہ ہو گا مجھے تو خود اپنی فکر ہے (یہاں تک کہ ان سے کہا جائے گا کہ) رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ تو وہ میرے پاس آئیں گے میں عرش کے نیچے سجدہ میں گر پڑوں گا تو مجھ سے کہا جائےگا اے ہمارے محبوب اپنا سر اٹھائیے اور سفارش کیجئے آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کی سفارش مقبول ہو گی اور مانگے گے آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کو دیا جائے گا- محمد بن عبید نے کہا کہ مجھے پوری حدیث محفوظ نہیں-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

Saturday, March 26, 2011

Sahi Bukhari, Jild 2, Bil-lihaaz Jild Hadith no:564, Total Hadith no: 3100

حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجِيئُ نُوحٌ وَأُمَّتُهُ فَيَقُولُ اللَّهُ تَعَالَی هَلْ بَلَّغْتَ فَيَقُولُ نَعَمْ أَيْ رَبِّ فَيَقُولُ لِأُمَّتِهِ هَلْ بَلَّغَکُمْ فَيَقُولُونَ لَا مَا جَائَنَا مِنْ نَبِيٍّ فَيَقُولُ لِنُوحٍ مَنْ يَشْهَدُ لَکَ فَيَقُولُ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُمَّتُهُ فَنَشْهَدُ أَنَّهُ قَدْ بَلَّغَ وَهُوَ قَوْلُهُ جَلَّ ذِکْرُهُ وَکَذَلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَکُونُوا شُهَدَائَ عَلَی النَّاسِ وَالْوَسَطُ الْعَدْلُ

موسیٰ بن اسمعیل عبدالواحد بن زیاد اعمش ابو صالح حضرت ابو سعید سے روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا (قیامت کے دن) نوح مع اپنی قوم کے تشریف لائیں گے تو ﷲ پوچھے گا کیا تم نے (ہمارا پیغام) پہنچا دیا تھا؟ وہ کہیں گے کہ ہاں اے پروردگار پھر ﷲ تعالیٰ ان کی امت سے پوچھے گا کہ کیا انہوں نے تمہیں ہمارا پیغام دیا تھا؟ تو وہ کہیں گے نہیں ہمارے پاس کوئی نبی نہیں آیا ﷲ تعالیٰ حضرت نوح علیہ السلام سے سے فرمائے گا تمہاراگواہ کون ہے؟ وہ کہیں گے محمد صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی امت تو وہ گواہی دیں گے کہ ہاں انہوں نے حکم پہنچا دیا ہے یہی مطلب ہے اس آیت کا کہ اور اسی طرح ہم نے تمہیں متوسط امت بنایا کہ تم لوگوں پر گواہ رہو وسط کے معنی درمیان کے ہیں



کتاب حدیث = صحیح بخاری
کتاب = انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب = فرمان الٰہی بے شک ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا۔
جلد نمبر  2
جلد کے لہاظ سے حدیث نمبر  564
ٹوٹل حدیث نمبر  3100


contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.