کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
نماز قصر کا بیان
باب
نماز میں کون سا عمل جائز ہے۔
حدیث نمبر
1133
حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ صَلَّی صَلَاةً قَالَ إِنَّ الشَّيْطَانَ عَرَضَ لِي فَشَدَّ عَلَيَّ لِيَقْطَعَ الصَّلَاةَ عَلَيَّ فَأَمْکَنَنِي اللَّهُ مِنْهُ فَذَعَتُّهُ وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أُوثِقَهُ إِلَی سَارِيَةٍ حَتَّی تُصْبِحُوا فَتَنْظُرُوا إِلَيْهِ فَذَکَرْتُ قَوْلَ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَام رَبِّ هَبْ لِي مُلْکًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي فَرَدَّهُ اللَّهُ خَاسِيًا ثُمَّ قَالَ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ فَذَعَتُّهُ بِالذَّالِ أَيْ خَنَقْتُهُ وَفَدَعَّتُّهُ مِنْ قَوْلِ اللَّهِ يَوْمَ يُدَعُّونَ أَيْ يُدْفَعُونَ وَالصَّوَابُ فَدَعَتُّهُ إِلَّا أَنَّهُ کَذَا قَالَ بِتَشْدِيدِ الْعَيْنِ وَالتَّائِ
محمود، شبابہ، شعبہ، محمد بن زیاد، ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے اور وہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ایک نماز پڑھی، تو فرمایا کہ شیطان میرے سامنے آیا اور مجھ پر دشوار کردیا گیا کہ نماز کو توڑ دے- تو ﷲ تعالیٰ نے مجھ کو اس پر غلبہ عطا کیا اور میں نے اس کو مغلوب کرلیا اور میں نے ارادہ کیا کہ اسے ایک ستون سے باندھ دوں، تاکہ صبح کے وقت تم لوگ اسے دیکھ سکو، پھر میں نے حضرت سلیمان علیہ السلام کا یہ قول یاد کیا کہ ﴿رَبِّ هَبْ لِي مُلْکًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي﴾ تو ﷲ تعالیٰ نے اس کو نامراد اور ذلیل کر کے واپس کردیا- پھر نضر بن اسمعیل نے کہا کہ دعتہ سے مراد ہے میں نے اس کا گلا گھونٹا اور دعتہ ﷲ تعالیٰ کے قول یوم یدعون سے ماخوذ ہے یعنی وہ دفع کرتے ہیں اور صحیح فدعتہ ہی ہے مگر یہ عین اور تا کی تشدید کے ساتھ اسی طرح بیان کیا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment