کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
نماز قصر کا بیان
باب
نماز میں کسی چیز کے سوچنے کا بیان۔
حدیث نمبر
1144
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا عُمَرُ هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ سَرِيعًا دَخَلَ عَلَی بَعْضِ نِسَائِهِ ثُمَّ خَرَجَ وَرَأَی مَا فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ مِنْ تَعَجُّبِهِمْ لِسُرْعَتِهِ فَقَالَ ذَکَرْتُ وَأَنَا فِي الصَّلَاةِ تِبْرًا عِنْدَنَا فَکَرِهْتُ أَنْ يُمْسِيَ أَوْ يَبِيتَ عِنْدَنَا فَأَمَرْتُ بِقِسْمَتِهِ
اسحق بن منصور، روح، عمر بن سعید، ابن ابی ملیکہ، عقبہ بن حارث رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے ساتھ عصر کی نماز پڑھی، جب آپ نے سلام پھیرا، تو جلدی سے کھڑے ہوئے اور اپنی بیویوں کے پاس تشریف لے گئے پھر واپس ہوئے، تو آپ کے چہرے میں جلد تشریف لے جانے کے سبب تعجب کے اثرات دیکھے، تو آپ نے فرمایا میں نماز میں تھا، تو مجھے یاد آیا کہ ہمارے پاس سونا ہے میں نے برا سمجھا کہ اسکی موجودگی میں شام ہو یا رات گزرے، تو میں نے اس کو تقسیم کرنے کا حکم دیا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment