کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
نماز قصر کا بیان
باب
اس شخص کا بیان جو سہو کے سجدوں میں تکبیر کہے۔
حدیث نمبر
1153
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ صَلَّی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَی صَلَاتَيْ الْعَشِيِّ قَالَ مُحَمَّدٌ وَأَکْثَرُ ظَنِّي الْعَصْرَ رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ قَامَ إِلَی خَشَبَةٍ فِي مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهَا وَفِيهِمْ أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَهَابَا أَنْ يُکَلِّمَاهُ وَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ فَقَالُوا أَقَصُرَتْ الصَّلَاةُ وَرَجُلٌ يَدْعُوهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُو الْيَدَيْنِ فَقَالَ أَنَسِيتَ أَمْ قَصُرَتْ فَقَالَ لَمْ أَنْسَ وَلَمْ تُقْصَرْ قَالَ بَلَی قَدْ نَسِيتَ فَصَلَّی رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ کَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَکَبَّرَ ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ فَکَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَکَبَّرَ
حفص بن عمر، یذید بن ابراہیم، محمد، ابوہریرہ رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے شام کی دو نمازوں میں سے ایک نماز پڑھی اور محمد نے کہا کہ میرا غالب گمان ہے کہ وہ عصر کی نماز تھی آپ نے دو رکعت پڑھیں، پھر سلام پھیرا پھر اس لکڑی کی طرف منہ کرکے کھڑے ہوئے جو سامنے سجدہ کرنے کی جگہ میں تھی، چناچہ آپ نے اپنا ہاتھ اس پر رکھا، اور ان میں ابوبکر رضی ﷲ عنہ اور عمر رضی ﷲ عنہ تھے، لیکن وہ دونوں آپ سے بات کرتے ہوئے ڈرے، اور لوگ جلدی سے نکل گئے اور کہنے لگے کہ کیا نماز کم کردی گئی؟ اور ایک شخص تھے جسے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم ذوالیدین کہتے تھے انہوں نے کہا کہ آپ بھول گئے یا نماز کم کردی گئی؟ تو آپ نے فرمایا نہ میں بھولا اور نہ نماز کم ہوئی ذوالیدین نے کہا آپ بھول گئے ہیں، تو آپ نے دو رکعات نماز پڑھی پھر سلام پھیرا پھر تکبیر کہی اور دوسرے سجدے کی مثل یا اس سے بھی لمبا سجدہ کیا پھر اپنا سر اٹھایا اور تکبیر کہی-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment