کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
جنازوں کا بیان
باب
تمام مال سے کفن دینے کا بیان۔
حدیث نمبر
1196
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَکِّيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أُتِيَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمًا بِطَعَامِهِ فَقَالَ قُتِلَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَکَانَ خَيْرًا مِنِّي فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ مَا يُکَفَّنُ فِيهِ إِلَّا بُرْدَةٌ وَقُتِلَ حَمْزَةُ أَوْ رَجُلٌ آخَرُ خَيْرٌ مِنِّي فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ مَا يُکَفَّنُ فِيهِ إِلَّا بُرْدَةٌ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يَکُونَ قَدْ عُجِّلَتْ لَنَا طَيِّبَاتُنَا فِي حَيَاتِنَا الدُّنْيَا ثُمَّ جَعَلَ يَبْکِي
احمد بن محمد مکی، ابراہیم ابن سعد، سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ عبدالرحمن بن عوف کے پاس ایک دن کھانا لایا گیا تو کہا کہ مصعب بن عمیر شہید کردیئے گئے اور وہ ہم سے بہتر تھے اور سوائے چادر کے اور کوئی چیز نہ تھی جو ان کے کفن میں دی جاتی اور حمزہ شہید کئے گئے یا ایک دوسرے شخص جومجھ سے بہتر تھے اور سوائے چادرکے کوئی چیز نہ تھی جو انکے کفن میں دی جاتی، مجھے خطرہ ہے کہ کہیں ہماری نیکیوں کا بدلہ ہماری دنیا میں ہی نہ دے دیا گیا ہو پھر یہ سوچ کر رونے لگے
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment