کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
جنازوں کا بیان
باب
جب ایک کپڑے کے سواء اور کوئی کپڑا نہ ملے۔
حدیث نمبر
1197
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُتِيَ بِطَعَامٍ وَکَانَ صَائِمًا فَقَالَ قُتِلَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَهُوَ خَيْرٌ مِنِّي کُفِّنَ فِي بُرْدَةٍ إِنْ غُطِّيَ رَأْسُهُ بَدَتْ رِجْلَاهُ وَإِنْ غُطِّيَ رِجْلَاهُ بَدَا رَأْسُهُ وَأُرَاهُ قَالَ وَقُتِلَ حَمْزَةُ وَهُوَ خَيْرٌ مِنِّي ثُمَّ بُسِطَ لَنَا مِنْ الدُّنْيَا مَا بُسِطَ أَوْ قَالَ أُعْطِينَا مِنْ الدُّنْيَا مَا أُعْطِينَا وَقَدْ خَشِينَا أَنْ تَکُونَ حَسَنَاتُنَا عُجِّلَتْ لَنَا ثُمَّ جَعَلَ يَبْکِي حَتَّی تَرَکَ الطَّعَامَ
ابن مقاتل، عبدﷲ ، شعبہ، سعد بن ابراہیم اپنے والد ابراہیم سے روایت کرتے ہیں کہ عبدالرحمن بن عوف کے پاس کھانا لایا گیا اور وہ روزہ دار تھے تو کہا کہ مصعب بن عمیر شہید ہوگئے اور وہ مجھ سے بہتر تھے، ایک چادر میں انہیں کفن دیا گیا کہ اگر ان کا سر ڈھانپا جاتا تو دونوں پاؤں کھل جاتے اور اگر دونوں پاوں چھپائے جاتے تو سر کھل جاتا اور میرا خیال ہے کہ شاید یہ بھی کہا کہ حمزہ شہید ہوئے اور وہ ہم سے بہتر تھے پھر ہم پر دنیا وسیع کردی گئی یا یہ کہا کہ ہمیں دنیا دی گئی اور ہمیں خو ف ہوا کہ ہماری نیکیاں
جلد دے دی گئیں پھر رونے لگے یہاں تک کہ کھانا چھوڑ دیا
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment