کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
جنازوں کا بیان
باب
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جس نے کفن تیار رکھا تو آپ نے اس کو برا نہیں سمجھا۔
حدیث نمبر
1199
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَهْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ امْرَأَةً جَائَتْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبُرْدَةٍ مَنْسُوجَةٍ فِيهَا حَاشِيَتُهَا أَتَدْرُونَ مَا الْبُرْدَةُ قَالُوا الشَّمْلَةُ قَالَ نَعَمْ قَالَتْ نَسَجْتُهَا بِيَدِي فَجِئْتُ لِأَکْسُوَکَهَا فَأَخَذَهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْتَاجًا إِلَيْهَا فَخَرَجَ إِلَيْنَا وَإِنَّهَا إِزَارُهُ فَحَسَّنَهَا فُلَانٌ فَقَالَ اکْسُنِيهَا مَا أَحْسَنَهَا قَالَ الْقَوْمُ مَا أَحْسَنْتَ لَبِسَهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْتَاجًا إِلَيْهَا ثُمَّ سَأَلْتَهُ وَعَلِمْتَ أَنَّهُ لَا يَرُدُّ قَالَ إِنِّي وَاللَّهِ مَا سَأَلْتُهُ لِأَلْبَسَهُ إِنَّمَا سَأَلْتُهُ لِتَکُونَ کَفَنِي قَالَ سَهْلٌ فَکَانَتْ کَفَنَهُ
عبدﷲ بن سلمہ، ابن ابی حازم، اپنے والد سے اور سہل سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس بردہ لے کر آئی جو بنا ہوا تھا اور اسمیں حاشیہ تھا تم جانتے ہو کہ بردہ کیا چیز ہے؟ لوگوں نے کہا کہ شملہ (چادر) سہل نے کہا ہاں- تو اس عورت نے کہا کہ میں نے اسے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے اور میں اسے اس لئے لائی ہوں کہ آپ صلی ﷲ علیہ وسلم اسے پہنیں- نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے اسے لے لیا اور آپ کو اس کی ضرورت بھی تھی پھر آپ ہمارے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ اس چادر کو ازار بنائے ہوئے تھے اس کی فلاں شخص نے تعریف کی اور کہا آپ ہمیں یہ دے دیں، یہ چادر کتنی اچھی ہے، لوگوں نے کہا کہ تو نے اچھا نہیں کیا کہ تو نے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے ضرورت کی حالت میں پہنا تھا اور تو نے اسے مانگ لیا حالانکہ تو جانتا ہے کہ آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کسی کے سوال کو رد نہیں فرماتے تھے- اس نے کہا کہ میں نے بخدا اس لئے نہیں مانگا تھا کہ اس کا لباس پہنوں بلکہ اس لئے مانگا کہ میرا کفن ہوجائے- سہل نے کہا کہ وہ چادر اس شخص کا کفن بنی-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment