Saturday, December 11, 2010

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:1373


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
زکوۃ کا بیان
باب
رشتہ داروں کو زکوٰہ دینے کا حکم۔
حدیث نمبر
1373
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي زَيْدٌ هُوَ ابْنُ أَسْلَمَ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَضْحًی أَوْ فِطْرٍ إِلَی الْمُصَلَّی ثُمَّ انْصَرَفَ فَوَعَظَ النَّاسَ وَأَمَرَهُمْ بِالصَّدَقَةِ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ تَصَدَّقُوا فَمَرَّ عَلَی النِّسَائِ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ النِّسَائِ تَصَدَّقْنَ فَإِنِّي رَأَيْتُکُنَّ أَکْثَرَ أَهْلِ النَّارِ فَقُلْنَ وَبِمَ ذَلِکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ تُکْثِرْنَ اللَّعْنَ وَتَکْفُرْنَ الْعَشِيرَ مَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَذْهَبَ لِلُبِّ الرَّجُلِ الْحَازِمِ مِنْ إِحْدَاکُنَّ يَا مَعْشَرَ النِّسَائِ ثُمَّ انْصَرَفَ فَلَمَّا صَارَ إِلَی مَنْزِلِهِ جَائَتْ زَيْنَبُ امْرَأَةُ ابْنِ مَسْعُودٍ تَسْتَأْذِنُ عَلَيْهِ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ زَيْنَبُ فَقَالَ أَيُّ الزَّيَانِبِ فَقِيلَ امْرَأَةُ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ نَعَمْ ائْذَنُوا لَهَا فَأُذِنَ لَهَا قَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّکَ أَمَرْتَ الْيَوْمَ بِالصَّدَقَةِ وَکَانَ عِنْدِي حُلِيٌّ لِي فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِهِ فَزَعَمَ ابْنُ مَسْعُودٍ أَنَّهُ وَوَلَدَهُ أَحَقُّ مَنْ تَصَدَّقْتُ بِهِ عَلَيْهِمْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ ابْنُ مَسْعُودٍ زَوْجُکِ وَوَلَدُکِ أَحَقُّ مَنْ تَصَدَّقْتِ بِهِ عَلَيْهِمْ
ابن ابی مریم، محمد بن جعفر، زید بن اسلم، عیاض بن عبدﷲ ، ابوسعیدخدری رضی ﷲ عنہ سے روایت کیا ہے، انہوں نے کہا کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم عیدالفطر یا عیدالاضحی کے دن عیدگاہ کی طرف تشریف لے گئے، پھر نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کو نصیحت کی اور ان کو صدقہ کا حکم دیا، تو آپ نے فرمایا اے لوگو ! صدقہ کرو، پھر عورتوں کے پاس پہنچے اور فرمایا، اے عورتوں کی جماعت تم خیرات کرو، اس لئے کہ مجھے دو زخیوں میں اکثر عورتیں دکھلائی گئیں- عورتوں نے کہا ایسا کیوں یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم ؟ آپ نے فرمایا، تم لعن طعن زیادہ کرتی ہو، شوہروں کی نافرمانی کرتی ہو، اے عورتو ! میں نے تم سے زیادہ دین اور عقل میں ناقص کسی کو نہیں دیکھا- جو بڑے بڑے ہوشیاروں کی عقل کم کردے، پھر آپ گھر واپس ہوئے، جب گھر پہنچے، تو ابن مسعود کی بیوی زینب رضی ﷲ عنہا آئیں اور اندر آنے کی اجازت مانگی، آپ سے کہا گیا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم یہ زینب ہے- آپ نے فرمایا، کون زینب ؟ کہا گیا کہ، ابن مسعود کی بیوی، آپ نے فرمایا، اچھا اجازت دو، انہیں اجازت دی گئی، تو انہوں نے آکر عرض کیا، یا نبی ﷲ آج آپ نے صدقہ کا حکم دیا، میرے پاس ایک زیور تھا میں نے ارادہ کیا کہ اسے خیرات کردوں، ابن مسعود نے دعوی کیا کہ وہ اور ان کا بیٹا خیرات کا زیادہ مستحق ہے، ان لوگوں سے جن کو میں خیرات دینا چاہتی ہوں، رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا، تیرے شوہر ابن مسعود نے سچ کہا ہے اور تیرا لڑکا ان لوگوں سے زیادہ مستحق ہے، جن کو تو خیرات دینا چاہتی ہے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment