کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
زکوۃ کا بیان
باب
رشتہ داروں کو زکوٰہ دینے کا حکم۔
حدیث نمبر
1372
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ کَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَکْثَرَ الْأَنْصَارِ بِالْمَدِينَةِ مَالًا مِنْ نَخْلٍ وَکَانَ أَحَبُّ أَمْوَالِهِ إِلَيْهِ بَيْرُحَائَ وَکَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَائٍ فِيهَا طَيِّبٍ قَالَ أَنَسٌ فَلَمَّا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ قَامَ أَبُو طَلْحَةَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی يَقُولُ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِي إِلَيَّ بَيْرُحَائَ وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ أَرْجُو بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللَّهِ فَضَعْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ حَيْثُ أَرَاکَ اللَّهُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَخٍ ذَلِکَ مَالٌ رَابِحٌ ذَلِکَ مَالٌ رَابِحٌ وَقَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ وَإِنِّي أَرَی أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الْأَقْرَبِينَ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَسَمَهَا أَبُو طَلْحَةَ فِي أَقَارِبِهِ وَبَنِي عَمِّهِ تَابَعَهُ رَوْحٌ وَقَالَ يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَإِسْمَاعِيلُ عَنْ مَالِکٍ رَايِحٌ باليائ
عبدﷲ بن یوسف، مالک، اسحق بن عبدﷲ بن ابی طلحہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت انس رضی ﷲ عنہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ ابوطلحہ انصار مدینہ میں سب سے زیادہ مالدار تھے، ان کے پاس کجھور کے باغ تھے، اپنے تمام مالوں میں ان کو بیرحاء بہت زیادہ محبوب تھا، اس کا رخ مسجد نبوی کی طرف تھا- نبی اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم وہاں جاتے اور وہاں کا پاکیزہ پانی پیا کرتے تھے- انس نے بیان کیا کہ جب یہ آیت اتری کہ تم نیکی نہیں پاسکتے جب تک کہ تم اپنی پیاری چیز ﷲ کے راستے میں خرچ نہ کردو اور میرے تمام مالوں میں بیرحاء مجھے سب سے زیادہ عزیز ہے اور وہ ﷲ کی راہ میں صدقہ ہے، میں اس کے ثواب اور ذخیرہ کی امید رکھتا ہوں، اس لئے آپ اسے رکھ لیں- اور جہاں مناسب ہو، صرف کیجیے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا شاباش، یہ تو مفید مال ہے، یہ تو آمدنی کا مال ہے اور جو تو نے کہا، میں نے سن لیا- میں مناسب سمجھتا ہوں کہ تم اسے رشتہ داروں میں تقسیم کردو، ابوطلحہ نے عرض کیا یا رسول ﷲ ایسا ہی کروں گا- چناچہ ابوطلحہ نے اسے اپنے رشتہ داروں اور چچا زاد بھائیوں میں تقسیم کردیا- روح نے اس کے متابع حدیث روایت کی اور یحیی بن یحیی اور اسماعیل نے مالک سے رابح کے بجائے رایح کا لفظ بیان کیا ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment