کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
زکوۃ کا بیان
باب
شوہر اور زیرتربیت یتیم بچوں کو زکوٰۃ دینے کا بیان۔
حدیث نمبر
1377
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ قَالَ حَدَّثَنِي شَقِيقٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ فَذَکَرْتُهُ لِإِبْرَاهِيمَ ح فَحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بِمِثْلِهِ سَوَائً قَالَتْ کُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّکُنَّ وَکَانَتْ زَيْنَبُ تُنْفِقُ عَلَی عَبْدِ اللَّهِ وَأَيْتَامٍ فِي حَجْرِهَا قَالَ فَقَالَتْ لِعَبْدِ اللَّهِ سَلْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَجْزِي عَنِّي أَنْ أُنْفِقَ عَلَيْکَ وَعَلَی أَيْتَامٍ فِي حَجْرِي مِنْ الصَّدَقَةِ فَقَالَ سَلِي أَنْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْطَلَقْتُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْتُ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ عَلَی الْبَابِ حَاجَتُهَا مِثْلُ حَاجَتِي فَمَرَّ عَلَيْنَا بِلَالٌ فَقُلْنَا سَلْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَجْزِي عَنِّي أَنْ أُنْفِقَ عَلَی زَوْجِي وَأَيْتَامٍ لِي فِي حَجْرِي وَقُلْنَا لَا تُخْبِرْ بِنَا فَدَخَلَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ مَنْ هُمَا قَالَ زَيْنَبُ قَالَ أَيُّ الزَّيَانِبِ قَالَ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ لَهَا أَجْرَانِ أَجْرُ الْقَرَابَةِ وَأَجْرُ الصَّدَقَةِ
عمر بن حفص بن غیاث، حفص بن غیاث، اعمش، شقیق، عمرو بن حارث زینب (عبدﷲ بن مسعود کی بیوی) سے روایت کرتے ہیں- اعمش نے کہا میں نے اس کو ابراہیم سے بیان کیا، تو ابراہیم نے مجھ سے بواسطہ عبیدہ، عمرو بن حارث، زینب (زوجہ عبدﷲ بن مسعود) سے بالکل اسی طرح روایت کیا ہے، زینب نے بیان کیا کہ میں مسجد میں تھی تو میں نے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے فرمایا خیرات کرو، اگرچہ تمہارا زیور ہی ہو اور زینب عبدﷲ کی ذات پر اور چند یتیموں کی ذات پر جو ان کی پرورش میں تھے خرچ کرتی تھی، انہوں نے عبدﷲ سے کہا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم سے پوچھ لو، چناچہ میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس پہنچی، میں نے ایک انصاری عورت کو دروازے پر پایا، اس کو بھی وہی ضرورت تھی جو مجھے تھی، ہمارے سامنے سے بلال گزرے، ہم نے ان سے کہا کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم سے پوچھو کہ میں اپنے شوہر اور ان کے یتیم بچوں پر جو میری پرورش میں ہیں، خرچ کروں؟ تو کیا وہ کافی ہوگا اور ہم نے کہا کہ ہمارا نام نہ لینا- بلال اندر گئے تو آپ سے دریافت کیا، تو آپ نے فرمایا، وہ دونوں کون عورتیں ہیں ؟ بلال نے کہا زینب- آپ نے فرمایا کہ کون زینب ؟ (بلال نے کہا کہ) عبدﷲ کی بیوی ؟ آپ نے فرمایا، ہاں- اس کے لئے دو اجر ہیں ایک رشتہ داری کا اور دوسرے صدقہ کا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment