کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
زکوۃ کا بیان
باب
یتیموں پر صدقہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر
1376
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَی عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ حَدَّثَنَا عَطَائُ بْنُ يَسَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَی الْمِنْبَرِ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ فَقَالَ إِنِّي مِمَّا أَخَافُ عَلَيْکُمْ مِنْ بَعْدِي مَا يُفْتَحُ عَلَيْکُمْ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَزِينَتِهَا فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَيَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ فَسَکَتَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ لَهُ مَا شَأْنُکَ تُکَلِّمُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يُکَلِّمُکَ فَرَأَيْنَا أَنَّهُ يُنْزَلُ عَلَيْهِ قَالَ فَمَسَحَ عَنْهُ الرُّحَضَائَ فَقَالَ أَيْنَ السَّائِلُ وَکَأَنَّهُ حَمِدَهُ فَقَالَ إِنَّهُ لَا يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ وَإِنَّ مِمَّا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ أَوْ يُلِمُّ إِلَّا آکِلَةَ الْخَضْرَائِ أَکَلَتْ حَتَّی إِذَا امْتَدَّتْ خَاصِرَتَاهَا اسْتَقْبَلَتْ عَيْنَ الشَّمْسِ فَثَلَطَتْ وَبَالَتْ وَرَتَعَتْ وَإِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَنِعْمَ صَاحِبُ الْمُسْلِمِ مَا أَعْطَی مِنْهُ الْمِسْکِينَ وَالْيَتِيمَ وَابْنَ السَّبِيلِ أَوْ کَمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّهُ مَنْ يَأْخُذُهُ بِغَيْرِ حَقِّهِ کَالَّذِي يَأْکُلُ وَلَا يَشْبَعُ وَيَکُونُ شَهِيدًا عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
معاذ بن فضالہ، ہشام، یحیی، بلال بن ابی میمونہ، عطاء بن یسار، نے ابوسعید خدری رضی ﷲ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم ایک دن منبر پر بیٹھے اور ہم بھی اس کے اردگرد بیٹھے- آپ نے فرمایا کہ میں اپنے بعد تم لوگوں کے متعلق دنیا کی زیب و زینت سے ڈرتا ہوں کہ اس کے دروازے تم پر کھول دئیے جائیں گے- ایک شخص نے عرض کیا، یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کیا اچھی چیز بری چیز کو لائے گی- نبی صلی ﷲ علیہ وسلم خاموش رہے تو اس شخص سے کہا گیا، کیا بات ہے، تو نبی صلی ﷲ علیہ وسلم سے گفتگو کرتا ہے اور حضور تجھ سے گفتگو نہیں کرتے- ہم نے خیال کیا کہ آپ پر وحی اتر رہی ہے، آپ نے چہرے سے پسینہ پونچھا اور فرمایا کہ سوال کرنے والا کہاں ہے- گویا اس کی تعریف کی اور فرمایا، اچھی چیز بری چیز پیدا نہیں کرتی مگر موسم ربیع میں ایسی گھاس بھی اگتی ہے جو مار ڈالتی ہے، یا تکلیف میں مبتلا کردیتی ہے مگر اس جانور کو ہری گھاس چرے یہاں تک کہ جب دونوں کوکھیں بھر جائیں، تو وہ آفتاب کی طرف رخ کر کے لید اور پیشاب کرے اور چرتا رہے، اسی طرح یہ مال سرسبز وشاداب اور میٹھا ہے، کیا ہی بہتر ہے مسلمان کا مال، کہ اس میں سے مسکین، یتیم اور مسافروں کو دیتا ہے، یا جیسا کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس کو ناحق لیتا ہے وہ اس شخص کی طرح ہے، جو کھاتا ہے مگر اس کا پیٹ نہیں بھرتا اور قیامت کے دن اس کے خلاف گواہ ہوگا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment