کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
زکوۃ کا بیان
باب
آسمان کے پانی اور جاری پانی سے سیراب کی جانے والی زمین میں دسواں حصہ واجب ہے۔
حدیث نمبر
1392
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِيمَا سَقَتْ السَّمَائُ وَالْعُيُونُ أَوْ کَانَ عَثَرِيًّا الْعُشْرُ وَمَا سُقِيَ بِالنَّضْحِ نِصْفُ الْعُشْرِ قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ هَذَا تَفْسِيرُ الْأَوَّلِ لِأَنَّهُ لَمْ يُوَقِّتْ فِي الْأَوَّلِ يَعْنِي حَدِيثَ ابْنِ عُمَرَ وَفِيمَا سَقَتْ السَّمَائُ الْعُشْرُ وَبَيَّنَ فِي هَذَا وَوَقَّتَ وَالزِّيَادَةُ مَقْبُولَةٌ وَالْمُفَسَّرُ يَقْضِي عَلَی الْمُبْهَمِ إِذَا رَوَاهُ أَهْلُ الثَّبَتِ کَمَا رَوَی الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُصَلِّ فِي الْکَعْبَةِ وَقَالَ بِلَالٌ قَدْ صَلَّی فَأُخِذَ بِقَوْلِ بِلَالٍ وَتُرِکَ قَوْلُ الْفَضْلِ
سعید بن ابی مریم، عبدﷲ بن وہب، یونس بن زید، ابن شہاب، سالم بن عبدﷲ ، عبدﷲ بن عمر رضی ﷲ عنہ نبی اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں- آپ نے فرمایا اس زمین میں عشر ہے، جسے آسمان یا چشمہ کا پانی سیراب کرے یا خود بخود سیراب ہو اور جس زمین کو کنوئیں سے سراب کیا جائے، اس میں بیسواں حصہ واجب ہے، ابوعبدﷲ (بخاری) نے بیان کیا کہ یہ پہلی حدیث کی تفسیر ہے- اس لئے کہ پہلی حدیث یعنی ابن عمر کی حدیث میں اس کی تعیین نہیں کی، وہ حدیث یہ ہے- فما سقت السماء العشر اور اس میں بیان کیا اور تعیین کی اور یہ زیادتی مقبول ہے اور حدیث مفسر مبہم کا فیصلہ کرتی ہے، بشرطیکہ اس کو حافظہ والے روایت کریں جیسا کہ فضل بن عباس نے بیان کیا کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے کعبہ میں نماز نہیں پڑھی اور بلال نے بیان کیا کہ آپ نے نماز پڑھی، تو بلال کے قول پر عمل کیا اور فضل کا قول چھوڑ دیا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment