کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
زکوۃ کا بیان
باب
جس نے اپنے پھل، درخت، زمین یا کھیتی کو بیچا اور اس میں عشر یا زکوٰۃ واجب تھی، تو اب دوسرے مال سے زکوٰۃ دے۔
حدیث نمبر
1395
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا نَهَی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّی يَبْدُوَ صَلَاحُهَا وَکَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْ صَلَاحِهَا قَالَ حَتَّی تَذْهَبَ عَاهَتُهُ
حجاج، شعبہ، عبدﷲ بن دینار، ابن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے پھل بیچنے سے منع فرمایا یہاں تک کہ ان کا قابل انتفاع ہونا ظاہر نہ ہوجائے اور جب ان سے پوچھا جاتا کہ قابل انتفاع ہونا کیا چیز ہے ؟ تو کہتے کہ اس کی آفت جاتی رہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment