کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
حج کا بیان
باب
تمتع، قران، اور افراد حج کا بیان۔
حدیث نمبر
1463
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نُرَی إِلَّا أَنَّهُ الْحَجُّ فَلَمَّا قَدِمْنَا تَطَوَّفْنَا بِالْبَيْتِ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَکُنْ سَاقَ الْهَدْيَ أَنْ يَحِلَّ فَحَلَّ مَنْ لَمْ يَکُنْ سَاقَ الْهَدْيَ وَنِسَاؤُهُ لَمْ يَسُقْنَ فَأَحْلَلْنَ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَحِضْتُ فَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ فَلَمَّا کَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَرْجِعُ النَّاسُ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ وَأَرْجِعُ أَنَا بِحَجَّةٍ قَالَ وَمَا طُفْتِ لَيَالِيَ قَدِمْنَا مَکَّةَ قُلْتُ لَا قَالَ فَاذْهَبِي مَعَ أَخِيکِ إِلَی التَّنْعِيمِ فَأَهِلِّي بِعُمْرَةٍ ثُمَّ مَوْعِدُکِ کَذَا وَکَذَا قَالَتْ صَفِيَّةُ مَا أُرَانِي إِلَّا حَابِسَتَهُمْ قَالَ عَقْرَی حَلْقَی أَوَ مَا طُفْتِ يَوْمَ النَّحْرِ قَالَتْ قُلْتُ بَلَی قَالَ لَا بَأْسَ انْفِرِي قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَلَقِيَنِي النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُصْعِدٌ مِنْ مَکَّةَ وَأَنَا مُنْهَبِطَةٌ عَلَيْهَا أَوْ أَنَا مُصْعِدَةٌ وَهُوَ مُنْهَبِطٌ مِنْهَا
عثمان، جریر، منصور، ابراہیم، اسود، حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا روایت کرتی ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہمارا ارادہ صرف حج کرنے کا ہی تھا جب ہم مکہ پہنچے، تو خانہ کعبہ کا طواف کیا، نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جوشخص قربانی کا جانور نہ لایا ہو، وہ اپنا احرام کھول ڈالے، چناچہ جو لوگ قربانی کا جانور نہیں لائے تھے انہوں نے احرام کھول دیا- آپ کی بیویاں بھی قربانی کا جانور نہیں لائی تھیں اس لئے انہوں نے بھی احرام کھول دیا- حضرت عائشہ نے کہا کہ میں حائضہ ہوگئی، تو میں نے خانہ کعبہ کا طواف نہیں کیا- جب حصبہ کی رات آئی تو میں نے عرض کیا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم ! لوگ حج اور عمرہ کر کے لوٹیں گے اور میں صرف حج کر کے لوٹوں گی، آپ نے پوچھا کہ جب ہم مکہ آئے تھے تو کیا تو نے طواف نہیں کیا تھا؟ میں نے کہا کہ نہیں، آپ نے فرمایا کہ اپنے بھائی کے ساتھ مقام تنعیم تک جاؤ اور عمرہ کا احرام باندھو، پھر فلاں فلاں جگہ پر آؤ اور صفیہ نے عرض کیا میں خیال کرتی ہوں کہ میں آپ کو روکنے کا سبب بنوں گی، آپ نے فرمایا، عقری حلقی (بانجھ سر منڈائی ہوئی) کیا تو نے یوم نحر میں طواف نہیں کیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ ہاں! آپ نے فرمایا کہ پھر کوئی حرج نہیں تو کوچ کر- عائشہ رضی ﷲ عنہا نے کہا کہ مجھ سے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم اس حال میں ملے کہ آپ مکہ سے اوپر چڑھ رہے تھے اور میں وہاں اتر رہی تھی، یا کہا میں چڑھ رہی تھی اور آپ اتر رہے تھے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment