کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
حج کا بیان
باب
جمرہ کے نزدیک سوار ہو کر لوگوں کو مسئلہ بتانے کا بیان۔
حدیث نمبر
1625
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عِيسَی بْنِ طَلْحَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَجَعَلُوا يَسْأَلُونَهُ فَقَالَ رَجُلٌ لَمْ أَشْعُرْ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ قَالَ اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ فَجَائَ آخَرُ فَقَالَ لَمْ أَشْعُرْ فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ قَالَ ارْمِ وَلَا حَرَجَ فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْئٍ قُدِّمَ وَلَا أُخِّرَ إِلَّا قَالَ افْعَلْ وَلَا حَرَجَ
عبدﷲ بن یوسف، مالک، ابن شہاب، عیسی بن طلحہ عبدﷲ بن عمر رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم حجۃ الوادع میں کھڑے ہوئے تو لوگ آپ سے مسئلہ پوچھنے لگے، ایک شخص نے عرض کیا مجھے معلوم نہ تھا اس لئے میں نے ذبح کرنے سے پہلے سر منڈا لیا، آپ نے فرمایا ذبح کر لو، کوئی حرج نہیں، دوسرا شخص آیا اس نے عرض کیا میں نہیں جانتا تھا اس رمی سے پہلے قربانی کر لی، آپ نے فرمایا رمی کر لو، کوئی حرج نہیں، اس دن جس چیز کے متعلق بھی پوچھا گیا کہ مقدم کی گئی یا مؤخر کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب کر لو کوئی حرج نہیں۔
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment