کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
حج کا بیان
باب
طواف زیارت کے بعد عورت کو حیض آجانے کا بیان۔
حدیث نمبر
1646
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَرَی إِلَّا الْحَجَّ فَقَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلَمْ يَحِلَّ وَکَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ فَطَافَ مَنْ کَانَ مَعَهُ مِنْ نِسَائِهِ وَأَصْحَابِهِ وَحَلَّ مِنْهُمْ مَنْ لَمْ يَکُنْ مَعَهُ الْهَدْيُ فَحَاضَتْ هِيَ فَنَسَکْنَا مَنَاسِکَنَا مِنْ حَجِّنَا فَلَمَّا کَانَ لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ لَيْلَةُ النَّفْرِ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ کُلُّ أَصْحَابِکَ يَرْجِعُ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ غَيْرِي قَالَ مَا کُنْتِ تَطُوفِينَ بِالْبَيْتِ لَيَالِيَ قَدِمْنَا قُلْتُ لَا قَالَ فَاخْرُجِي مَعَ أَخِيکِ إِلَی التَّنْعِيمِ فَأَهِلِّي بِعُمْرَةٍ وَمَوْعِدُکِ مَکَانَ کَذَا وَکَذَا فَخَرَجْتُ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِلَی التَّنْعِيمِ فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ وَحَاضَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقْرَی حَلْقَی إِنَّکِ لَحَابِسَتُنَا أَمَا کُنْتِ طُفْتِ يَوْمَ النَّحْرِ قَالَتْ بَلَی قَالَ فَلَا بَأْسَ انْفِرِي فَلَقِيتُهُ مُصْعِدًا عَلَی أَهْلِ مَکَّةَ وَأَنَا مُنْهَبِطَةٌ أَوْ أَنَا مُصْعِدَةٌ وَهُوَ مُنْهَبِطٌ وَقَالَ مُسَدَّدٌ قُلْتُ لَا تَابَعَهُ جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ فِي قَوْلِهِ لَا
ابولنعمان، ابوعوانہ، منصور، ابراہیم، اسود، حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم لوگ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور ہمارا صرف حج کا ارادہ تھا چناچہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم مکہ تشریف لائے اور خانہ کعبہ اور صفا اور مروہ کا طواف کیا اور احرام سے باہر نہیں ہوئے آپ کے پاس ہدی یعنی قربانی کا جانور بھی تھا آپ کے ساتھ جس قدر مرد عورت تھے، سب نے طواف کیا اور ان میں سے جن لوگوں کے پاس قربانی کا جانور نہیں تھا، احرام سے باہر ہو گئے، حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا کو حیض آ گیا، ہم نے حج کے تمام ارکان ادا کئے جب روانگی کی رات آئی، انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم! میرے علاوہ آپ کے تمام اصحاب حج اور عمرہ کر کے واپس ہو رہے ہیں، آپ نے فرمایا کیا تو نے طواف نہیں کیا، جس رات کو ہم مکہ آئے تھے، میں نے کہا کہ نہیں کیا، آپ نے فرمایا کہ تو اپنے بھائی عبدالرحمن کے ساتھ تنعیم کی طرف جا، اور عمرہ کا احرام باندھ، میں عبدالرحمن کیساتھ تنعیم کی طرف گئی تو میں نے عمرے کا احرام باندھا، اور صفیہ رضی ﷲ عنہ بنت حیی کو حیض آ گیا، تو نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا، بانجھ سر منڈی تو مجھے روک لے گی، کیا تو نے قربانی کے دن طواف کر لیا تھا، تو انہوں نے کہا ہاں، آپ نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں، روانہ ہو جا تو میں آپ سے اس حال میں ملی کہ آپ مکہ والوں سے اوپر کی جانب چڑھ رہے تھے اور میں اتر رہی تھی یا میں چڑھ رہی تھی اور آپ اتر رہے تھے، مسدد کی روایت میں اس طرح ہے کہ میں نے کہا نہیں، جریر نے منصور سے اس کے متابع حدیث روایت کی ہے جس میں نہیں کا لفظ روایت ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment