کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
عمرہ کا بیان
باب
مسافروں کا بیان جب کہ اس کو چلنے کی عجلت اور گھر پہنچنے کی جلد ضرورت ہو۔
حدیث نمبر
1686
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بِطَرِيقِ مَکَّةَ فَبَلَغَهُ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ شِدَّةُ وَجَعٍ فَأَسْرَعَ السَّيْرَ حَتَّی کَانَ بَعْدَ غُرُوبِ الشَّفَقِ نَزَلَ فَصَلَّی الْمَغْرِبَ وَالْعَتَمَةَ جَمَعَ بَيْنَهُمَا ثُمَّ قَالَ إِنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ وَجَمَعَ بَيْنَهُمَا
سعید بن ابی مریم، محمدبن جعفر، زید اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا مکہ کے راستے میں عبدﷲ بن عمر رضی ﷲ عنہ کے ساتھ تھا تو ان کو صفیہ بنت ابی عبید کی سخت بیماری کی خبر ملی انہوں نے اپنی چال تیز کر دی یہاں تک کہ شفق کے ڈوب جانے کے بعد سواری سے اترے اور مغرب اور عشاء کی نماز ایک ساتھ پڑھی پھر بیان کیا کہ میں نے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ کو چلنے کی جلدی ہوتی تو مغرب کو مؤخر کرتے اور دونوں نمازیں (مغرب عشا) جمع کر کے پڑھتے
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment