کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
عمرہ کا بیان
باب
ان کی دلیل جو اس کے قائل ہیں کہ محصر پر بدلہ واجب نہیں۔
حدیث نمبر
1694
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ حِينَ خَرَجَ إِلَی مَکَّةَ مُعْتَمِرًا فِي الْفِتْنَةِ إِنْ صُدِدْتُ عَنْ الْبَيْتِ صَنَعْنَا کَمَا صَنَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهَلَّ بِعُمْرَةٍ مِنْ أَجْلِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ ثُمَّ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ نَظَرَ فِي أَمْرِهِ فَقَالَ مَا أَمْرُهُمَا إِلَّا وَاحِدٌ فَالْتَفَتَ إِلَی أَصْحَابِهِ فَقَالَ مَا أَمْرُهُمَا إِلَّا وَاحِدٌ أُشْهِدُکُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ الْحَجَّ مَعَ الْعُمْرَةِ ثُمَّ طَافَ لَهُمَا طَوَافًا وَاحِدًا وَرَأَی أَنَّ ذَلِکَ مُجْزِيًا عَنْهُ وَأَهْدَی
اسمعیل، مالک، نافع عبدﷲ بن عمر رضی ﷲ عنہ کے متعلق بیان کرتے ہیں کہ جب وہ فتنہ کے زمانے میں عمرہ کے لئے مکہ کو روانہ ہوئے تو کہا کہ اگر ہم لوگ خانہ کعبہ میں جانے سے روک دیئے گئے، تو ہم وہی کریں گے جو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے ساتھ ہم نے کیا تھا- چناچہ انہوں نے عمرہ کا احرام باندھا اس لئے کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے سال عمرہ کا احرام باندھا تھا، پھرعبدﷲ بن عمر رضی ﷲ عنہ نے اس معاملہ میں غور کیا تو کہا کہ ان دونوں حج اور عمرہ کا تو ایک حال ہے چناچہ اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا کہ ان دونوں کی حالت تو ایک ہی ہے، میں تم کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے حج کو عمرہ ساتھ واجب کیا ہے پھر دونوں کے لئے ایک ہی طواف کیا اور خیال کیا کہ یہ کافی ہے اور ہدی بھی ساتھ لے گئے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment