Saturday, January 1, 2011

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:1704


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
عمرہ کا بیان
باب
محرم شکار کی طرف غیر محرم کے شکار کرنے کے لئے اشارہ نہ کرے۔
حدیث نمبر
1704
حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ هُوَ ابْنُ مَوْهَبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ حَاجًّا فَخَرَجُوا مَعَهُ فَصَرَفَ طَائِفَةً مِنْهُمْ فِيهِمْ أَبُو قَتَادَةَ فَقَالَ خُذُوا سَاحِلَ الْبَحْرِ حَتَّی نَلْتَقِيَ فَأَخَذُوا سَاحِلَ الْبَحْرِ فَلَمَّا انْصَرَفُوا أَحْرَمُوا کُلُّهُمْ إِلَّا أَبُو قَتَادَةَ لَمْ يُحْرِمْ فَبَيْنَمَا هُمْ يَسِيرُونَ إِذْ رَأَوْا حُمُرَ وَحْشٍ فَحَمَلَ أَبُو قَتَادَةَ عَلَی الْحُمُرِ فَعَقَرَ مِنْهَا أَتَانًا فَنَزَلُوا فَأَکَلُوا مِنْ لَحْمِهَا وَقَالُوا أَنَأْکُلُ لَحْمَ صَيْدٍ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ فَحَمَلْنَا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِ الْأَتَانِ فَلَمَّا أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا کُنَّا أَحْرَمْنَا وَقَدْ کَانَ أَبُو قَتَادَةَ لَمْ يُحْرِمْ فَرَأَيْنَا حُمُرَ وَحْشٍ فَحَمَلَ عَلَيْهَا أَبُو قَتَادَةَ فَعَقَرَ مِنْهَا أَتَانًا فَنَزَلْنَا فَأَکَلْنَا مِنْ لَحْمِهَا ثُمَّ قُلْنَا أَنَأْکُلُ لَحْمَ صَيْدٍ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ فَحَمَلْنَا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِهَا قَالَ أَمِنْکُمْ أَحَدٌ أَمَرَهُ أَنْ يَحْمِلَ عَلَيْهَا أَوْ أَشَارَ إِلَيْهَا قَالُوا لَا قَالَ فَکُلُوا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِهَا
موسی بن اسمعیل، ابوعوانہ، عثمان بن موہب، عبدﷲ بن ابی قتادہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم حج کرنے کے لئے نکلے تو لوگ بھی آپ کے ساتھ نکلے ایک جماعت کو جس میں ابوقتادہ بھی تھے دوسرے راستے سے بھیجا اور فرمایا کہ تم دریا کا کنارہ اختیار کر لو، یہاں تک کہ ہم سے آ کر ملو چناچہ یہ لوگ دریا کے کنارے کنارے چلے جب وہ لوگ لوٹے تو سب نے احرام باندھا، مگر ابوقتادہ نے احرام نہیں باندھا وہ لوگ چل رہے تھے تو کئی گورخروں پر ان لوگوں کی نظر پڑی ابوقتادہ نے ان پر حملہ کر دیا اور ان میں سے مادہ کا شکار کر لیا لوگ اترے اور گوشت کھایا- پھر کہنے لگے کہ کیاہم شکار کھائیں، حالانکہ احرام باندھے ہوئے ہیں- ہم نے اس کا باقی گوشت اٹھا لیا- جب لوگ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس آئے تو عرض کیا یا رسول ﷲ ہم نے احرام باندھا تھا، اور ابوقتادہ نے احرام نہیں باندھا تھا- ہم نے کئی گورخر دیکھے- ابوقتادہ نے ان پر حملہ کر کے ایک کا ان میں سے شکار کر لیا- پھر ہم اترے اور ہم نے اسکا گوشت کھایا پھر ہم نے کہا کیا ہم شکار کا گوشت کھائیں جب کہ احرام باندھے ہوئیں ہیں؟ لوگوں نے اسکا بچا ہوا گوشت اٹھا لیا اور آپ نے فرمایا کہ تم میں سے کسی نے اس پر حملے کرنے کے لئے حکم یا اشارہ دیا تھا؟ لوگوں نے کہا کہ نہیں! آپ نے فرمایا اس کا بچا ہوا گوشت کھاؤ



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment