کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
روزے کا بیان
باب
روزہ دار کے مباشرت کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر
1803
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ الْحَکَمِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَيُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ وَکَانَ أَمْلَکَکُمْ لِإِرْبِهِ وَقَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَآرِبُ حَاجَةٌ قَالَ طَاوُسٌ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ الْأَحْمَقُ لَا حَاجَةَ لَهُ فِي النِّسَائِ
سلیمان بن حرب، شعبہ، حکم، ابراہیم، اسود، عائشہ رضی ﷲ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم بوسہ لیتے اور مباشرت کرتے اس حال میں کہ روزہ دار ہوتے اور وہ تم میں سب سے زیادہ اپنی خواہشات پر قادر تھے- اور ابن عباس رضی ﷲ عنہ نے فرمایا کہ مَآرِبُ کے معنی حاجت ہیں اور طاؤس نے کہا أُولِي الْإِرْبَةِ سے مراد وہ احمق ہے جسے عورتوں کی حاجت نہ ہو-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment