Saturday, January 1, 2011

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:1851


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
روزے کا بیان
باب
روزے میں بیوی بچوں کا حق ہے ابوحجیفہ نے اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے
حدیث نمبر
1851
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ سَمِعْتُ عَطَائً أَنَّ أَبَا الْعَبَّاسِ الشَّاعِرَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَسْرُدُ الصَّوْمَ وَأُصَلِّي اللَّيْلَ فَإِمَّا أَرْسَلَ إِلَيَّ وَإِمَّا لَقِيتُهُ فَقَالَ أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّکَ تَصُومُ وَلَا تُفْطِرُ وَتُصَلِّي فَصُمْ وَأَفْطِرْ وَقُمْ وَنَمْ فَإِنَّ لِعَيْنِکَ عَلَيْکَ حَظًّا وَإِنَّ لِنَفْسِکَ وَأَهْلِکَ عَلَيْکَ حَظًّا قَالَ إِنِّي لَأَقْوَی لِذَلِکَ قَالَ فَصُمْ صِيَامَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ وَکَيْفَ قَالَ کَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَی قَالَ مَنْ لِي بِهَذِهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ عَطَائٌ لَا أَدْرِي کَيْفَ ذَکَرَ صِيَامَ الْأَبَدِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ مَرَّتَيْنِ
عمرو بن علی، ابوعاصم، ابن جریج، عطاء، ابوالعباس شاعر نے عبدﷲ بن عمرو کو کہتے ہوئے سنا کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کو خبر ملی کہ میں برابر روزے رکھتا ہوں اور رات کو نماز پڑھتا ہوں، آپ نے مجھے بلا بھیجا، یا میں خود آپ سے ملا- آپ نے فرمایا مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم روزے رکھتے ہو اور افطار نہیں کرتے اور نماز پڑھتے ہو، روزہ رکھو اور افطار بھی کرو- رات کو عبادت کے لئے کھڑا ہو اور سویا بھی کر اس لیے کہ تمہاری آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری جان اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے- میں نے عرض کیا کہ میں اپنے آپ کو اس سے زیادہ قوی پاتا ہوں آپ نے فرمایا داؤد علیہ السلام کے روزے رکھ، میں نے پوچھا کہ وہ کس طرح روزے رکھتے تھے؟ آپ نے فرمایا کہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے اور جب دشمن سے مقابلہ ہوتا تو پیچھے نہ ہٹتے- عبدﷲ نے کہا میں نے عرض کیا کہ میری طرف سے اس کی ذمہ داری کون لیتا ہے؟ عطاء نے کہا میں نہیں جانتا کہ ہمیشہ روزہ رکھنے کا تذکرہ کس طرح کیا؟ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے دوبارہ فرمایا جس نے ہمیشہ روزے رکھے اس نے گویا روزے نہیں رکھے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment