Saturday, May 7, 2011

Jild2,Bil-lihaaz Jild Hadith no:1447,TotalNo:3983


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
غزوات کا بیان
باب
یہ باب عنوان سے خالی ہے
حدیث نمبر
3983
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي حَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ مُجَاهِدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مَکَّةَ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ فَهِيَ حَرَامٌ بِحَرَامِ اللَّهِ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي وَلَا تَحِلُّ لِأَحَدٍ بَعْدِي وَلَمْ تَحْلِلْ لِي قَطُّ إِلَّا سَاعَةً مِنْ الدَّهْرِ لَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا وَلَا يُعْضَدُ شَوْکُهَا وَلَا يُخْتَلَی خَلَاهَا وَلَا تَحِلُّ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ فَقَالَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ إِلَّا الْإِذْخِرَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّهُ لَا بُدَّ مِنْهُ لِلْقَيْنِ وَالْبُيُوتِ فَسَکَتَ ثُمَّ قَالَ إِلَّا الْإِذْخِرَ فَإِنَّهُ حَلَالٌ وَعَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْکَرِيمِ عَنْ عِکْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ بِمِثْلِ هَذَا أَوْ نَحْوِ هَذَا رَوَاهُ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اسحاق، ابوعاصم، ابن جریج، حسن بن مسلم، مجاہد سے مروی ہے کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے دن (خطبہ کے لئے) کھڑے ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ ﷲ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی پیدائش کے دن سے مکہ کو حرم قرار دیا ہے لہذا یہ قیامت تک ﷲ کے (حکم) حرم کی وجہ سے حرم ہے نہ مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال ہوا نہ میرے بعد کسی کے لئے حلال ہوگا اور علاوہ تھوڑی دیر کے میرے لئے بھی حلال نہیں ہوا نہ اس کے شکار کو بھگانا جائز ہے نہ اس کے کانٹوں کا اکھیڑنا درست ہے نہ اس کی گھاس کا کاٹنا جائز ہے اور نہ اسکی پڑی ہوئی کسی چیز کو اٹھانا جائز ہے علاوہ اس کے جو لوگوں کو اطلاع دے دے، تو عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ بن عبدالمطلب نے کہا سوائے اذخر (گھاس) کے یا رسول ﷲ! کیونکہ لوہاروں کو اور ہمارے گھروں میں اس کی ضرورت رہتی ہے تو حضور خاموش ہوئے پھر فرمایا سوائے اذخر کے کہ وہ (اس کا کانٹا) حلال ہے ابن جریج، عبدالکریم، عکرمہ ابن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے بھی اسی طرح روایت ہے ابوہریرہ نے نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے اسی جیسی روایت کی ہے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment