کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
غزوات کا بیان
باب
یہ باب عنوان سے خالی ہے
حدیث نمبر
3982
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَمْزَةَ قَالَ حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ زُرْتُ عَائِشَةَ مَعَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ فَسَأَلَهَا عَنْ الْهِجْرَةِ فَقَالَتْ لَا هِجْرَةَ الْيَوْمَ کَانَ الْمُؤْمِنُ يَفِرُّ أَحَدُهُمْ بِدِينِهِ إِلَی اللَّهِ وَإِلَی رَسُولِهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَخَافَةَ أَنْ يُفْتَنَ عَلَيْهِ فَأَمَّا الْيَوْمَ فَقَدْ أَظْهَرَ اللَّهُ الْإِسْلَامَ فَالْمُؤْمِنُ يَعْبُدُ رَبَّهُ حَيْثُ شَائَ وَلَکِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ
اسحاق بن یزید، یحییٰ بن حمزہ، اوزاعی، عطاء بن ابی رباح سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں عبید بن عمیر کے ساتھ حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کے پاس آیا اور ان سے ہجرت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا اب ہجرت نہیں ہے (پہلے چونکہ اسلام غالب نہ تھا اس لئے) مسلمان اپنے دین کو فتنہ سے محفوظ رکھنے کے لئے ﷲ اور اس کے رسول کی طرف بھاگتا تھا لیکن اب تو ﷲ نے اسلام کو غالب کردیا ہے لہذا مومن جہاں چاہے اپنے رب کی عبادت کرے ہاں ابھی جہاد اور (اخلاص) نیت باقی ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment