Saturday, May 7, 2011

Jild2,Bil-lihaaz Jild Hadith no:1420,TotalNo:3956


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
غزوات کا بیان
باب
فتح (مکہ) کے دن نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے پرچم کہاں نصب فرمایا
حدیث نمبر
3956
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمَّا سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فَبَلَغَ ذَلِکَ قُرَيْشًا خَرَجَ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ وَحَکِيمُ بْنُ حِزَامٍ وَبُدَيْلُ بْنُ وَرْقَائَ يَلْتَمِسُونَ الْخَبَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْبَلُوا يَسِيرُونَ حَتَّی أَتَوْا مَرَّ الظَّهْرَانِ فَإِذَا هُمْ بِنِيرَانٍ کَأَنَّهَا نِيرَانُ عَرَفَةَ فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ مَا هَذِهِ لَکَأَنَّهَا نِيرَانُ عَرَفَةَ فَقَالَ بُدَيْلُ بْنُ وَرْقَائَ نِيرَانُ بَنِي عَمْرٍو فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ عَمْرٌو أَقَلُّ مِنْ ذَلِکَ فَرَآهُمْ نَاسٌ مِنْ حَرَسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَدْرَکُوهُمْ فَأَخَذُوهُمْ فَأَتَوْا بِهِمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمَ أَبُو سُفْيَانَ فَلَمَّا سَارَ قَالَ لِلْعَبَّاسِ احْبِسْ أَبَا سُفْيَانَ عِنْدَ حَطْمِ الْخَيْلِ حَتَّی يَنْظُرَ إِلَی الْمُسْلِمِينَ فَحَبَسَهُ الْعَبَّاسُ فَجَعَلَتْ الْقَبَائِلُ تَمُرُّ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمُرُّ کَتِيبَةً کَتِيبَةً عَلَی أَبِي سُفْيَانَ فَمَرَّتْ کَتِيبَةٌ قَالَ يَا عَبَّاسُ مَنْ هَذِهِ قَالَ هَذِهِ غِفَارُ قَالَ مَا لِي وَلِغِفَارَ ثُمَّ مَرَّتْ جُهَيْنَةُ قَالَ مِثْلَ ذَلِکَ ثُمَّ مَرَّتْ سَعْدُ بْنُ هُذَيْمٍ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِکَ وَمَرَّتْ سُلَيْمُ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِکَ حَتَّی أَقْبَلَتْ کَتِيبَةٌ لَمْ يَرَ مِثْلَهَا قَالَ مَنْ هَذِهِ قَالَ هَؤُلَائِ الْأَنْصَارُ عَلَيْهِمْ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ مَعَهُ الرَّايَةُ فَقَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ يَا أَبَا سُفْيَانَ الْيَوْمَ يَوْمُ الْمَلْحَمَةِ الْيَوْمَ تُسْتَحَلُّ الْکَعْبَةُ فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ يَا عَبَّاسُ حَبَّذَا يَوْمُ الذِّمَارِ ثُمَّ جَائَتْ کَتِيبَةٌ وَهِيَ أَقَلُّ الْکَتَائِبِ فِيهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ وَرَايَةُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ فَلَمَّا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي سُفْيَانَ قَالَ أَلَمْ تَعْلَمْ مَا قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ قَالَ مَا قَالَ قَالَ کَذَا وَکَذَا فَقَالَ کَذَبَ سَعْدٌ وَلَکِنْ هَذَا يَوْمٌ يُعَظِّمُ اللَّهُ فِيهِ الْکَعْبَةَ وَيَوْمٌ تُکْسَی فِيهِ الْکَعْبَةُ قَالَ وَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُرْکَزَ رَايَتُهُ بِالْحَجُونِ قَالَ عُرْوَةُ وَأَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ يَقُولُ لِلزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ هَا هُنَا أَمَرَکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَرْکُزَ الرَّايَةَ قَالَ وَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ أَنْ يَدْخُلَ مِنْ أَعْلَی مَکَّةَ مِنْ کَدَائٍ وَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ کُدَا فَقُتِلَ مِنْ خَيْلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَئِذٍ رَجُلَانِ حُبَيْشُ بْنُ الْأَشْعَرِ وَکُرْزُ بْنُ جابِرٍ الْفِهْرِيُّ
عبید بن اسماعیل، ابواسامہ، ہشام، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے سال روانہ ہوئے تو قریش کو اس کی خبر پہنچ گئی ابوسفیان بن حرب، حکیم بن حزام اور بدیل بن ورقا (قریش کی جانب سے) رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی خبر لینے کے لئے نکلے یہ تینوں چلتے چلتے (مقام) مر الظہران تک پہنچے وہاں بکثرت آگ اس طرح روشن دیکھی جس طرح عرفہ میں ہوتی ہے ابوسفیان نے کہا یہ آگ کیسی ہے؟ جیسے عرفہ میں ہوتی ہے بدیل بن ورقاء نے جواب دیا بنو عمرو کی آگ ہوگی، ابوسفیان نے کہا، عمرو کی تعداد اس سے بہت کم ہے ان تینوں کو آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے محافظوں نے دیکھ کر پکڑ لیا اور انہیں آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا ابوسفیان تو مسلمان ہو گئے۔ پھر جب رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم روانہ ہوئے تو آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم نے حضرت عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ ابوسفیان کو لشکر اسلام کی تنگ گزرگاہ کے پاس ٹھہرا، تاکہ یہ لشکر اسلام کا نظارہ کر سکیں انہیں حضرت عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے وہاں کھڑا کردیا اب آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ قبائل گزرنے شروع ہوئے لشکر کا ایک ایک دستہ ابوسفیان کے پاس سے گزرنے لگا چناچہ جب ایک دستہ گزرا تو ابوسفیان نے پوچھا اے عباس! یہ کون سا دستہ ہے؟ انہوں نے کہا یہ قبیلیہ غفار ہے، ابوسفیان نے کہا کہ میری اور قبیلہ غفار کی تو لڑائی نہ تھی پھر قبیلہ جہینہ گزرا تو اسی طرح کہا پھر سعد بن ہذیم گزرا تو اسی طرح کہا پھر سلیم گزرا تو اسی طرح کہا پھر ایک دستہ گزرا کہ اس جیسا دیکھا ہی نہ تھا ابوسفیان نے کہا کہ یہ کون ہے؟ عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا یہ انصار ہیں ان کے سپہ سالار سعد بن عبادہ ہیں، جن کے پاس پرچم ہے سعد بن عبادہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا اے ابوسفیان! آج کا دن جنگ کا دن ہے آج کعبہ (میں کافروں کا کشت و خون) حلال ہوجائے گا ابوسفیان نے کہا اے عباس! ہلاکت (کفار) کا دن کتنا اچھا ہے؟ پھر ایک سب سے چھوٹا دستہ آیا جس میں آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے (مہاجر) اصحاب رضی ﷲ تعالیٰ عنہ تھے اور نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کا پرچم زبیر بن عوام کے پاس تھا جب نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم ابوسفیان کے پاس سے گزرے تو ابوسفیان نے کہا آپ کو معلوم ہے کہ سعد بن عبادہ نے کیا کہا ہے؟ آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا کہا ہے؟ ابوسفیان نے کہا ایسا ایسا کہا ہے- آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا سعد نے صحیح نہیں کہا لیکن آج کا دن تو وہ دن ہے جس میں ﷲ تعالیٰ کعبہ کو عظمت و بزرگی عطا فرمائے گا اور کعبہ کو آج غلاف پہنایا جائے گا۔ عروہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پرچم کو (مقام) حجون میں نصب کرنے کا حکم دیا عروہ کہتے ہیں کہ مجھے نافع بن جبیر بن مطعم نے بتایا کہ انہوں نے عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کو زبیر بن عوام رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے یہ کہتے ہوئے سنا کہ اے ابوعبدﷲ! رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو یہاں پرچم نصب کرنے کا حکم دیا ہے عروہ کہتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اس دن خالد بن ولید کو حکم دیا کہ وہ مکہ کے اوپر کے حصہ یعنی کدا سے داخل ہوں اور خود آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کدا سے داخل ہوئے اس دن خالد کے دستہ کے دو آدمی حبیش بن اشعر اور کرز بن جابر فہری شہید ہوئے (باقی اور کسی کا کان بھی گرم نہیں ہوا) -



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment