کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
باب
نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جب کسی ایسی چیز سے متعلق سوال کیاجاتاجس کے متعلق آپ پر وحی نازل نہیں ہوئی ہوتی تو فرماتے میں نہیں جانتا۔
حدیث نمبر
6812
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْکَدِرِ يَقُولُ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ مَرِضْتُ فَجَائَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي وَأَبُو بَکْرٍ وَهُمَا مَاشِيَانِ فَأَتَانِي وَقَدْ أُغْمِيَ عَلَيَّ فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَبَّ وَضُوئَهُ عَلَيَّ فَأَفَقْتُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ فَقُلْتُ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ کَيْفَ أَقْضِي فِي مَالِي کَيْفَ أَصْنَعُ فِي مَالِي قَالَ فَمَا أَجَابَنِي بِشَيْئٍ حَتَّی نَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ
علی بن عبد ﷲ ، سفیان، ابن مکندر، حضرت جابر بن عبد ﷲ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں بیمار ہوا تو میرے پاس رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور ابوبکر میری عیادت کو تشریف لائے، دونوں پیادہ تھے، جب میرے پاس تشریف لائے تو اس وقت مجھ پر بیہوشی طاری تھی، رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا پھر اپنے وضو کا پانی مجھ پر چھڑکا، میں ہوش آیا تو میں نے عرض کیا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم (اور اکثر سفیان نے یا رسول کے بجائے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے لفظ بیان فرمائے ہیں) کس طرح اپنے مال میں حکم لگاؤں اور میں اپنے مال میں کس طرح کروں جابر کا بیان ہے، کہ آپ نے کچھ بھی جواب نہ دیا، حتی کہ میراث کی آیت نازل ہوئی-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment