کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
باب
اللہ تعالی کا قول کہ انسان سب سے زیادہ جھگڑالو ہے۔
حدیث نمبر
6848
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ بَيْنَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ انْطَلِقُوا إِلَی يَهُودَ فَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّی جِئْنَا بَيْتَ الْمِدْرَاسِ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَادَاهُمْ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ يَهُودَ أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا فَقَالُوا قَدْ بَلَّغْتَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ قَالَ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِکَ أُرِيدُ أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا فَقَالُوا قَدْ بَلَّغْتَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِکَ أُرِيدُ ثُمَّ قَالَهَا الثَّالِثَةَ فَقَالَ اعْلَمُوا أَنَّمَا الْأَرْضُ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ وَأَنِّي أُرِيدُ أَنْ أُجْلِيَکُمْ مِنْ هَذِهِ الْأَرْضِ فَمَنْ وَجَدَ مِنْکُمْ بِمَالِهِ شَيْئًا فَلْيَبِعْهُ وَإِلَّا فَاعْلَمُوا أَنَّمَا الْأَرْضُ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ
قتیبہ، لیث، سعید، (ابوسعید کیسان) حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ہم ایک بار مسجد میں تھے تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ یہود کے پاس چلو، ہم لوگ آپ کے ساتھ روانہ ہوئے- یہاں تک کہ ہم لوگ بیت المدراس کے پاس پہنچے، نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو گئے، اور ان لوگوں کو پکار کر فرمایا کہ اے یہود کی جماعت، تم اسلام، لے آؤ تو محفوظ رہو گے، یہود نے کہا کہ اے ابوالقاسم! تم نے پہنچا دیا، رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہی میرا مقصد تھا، پھر فرمایا کہ تم مسلمان ہو جاؤ تو محفوظ رہو گے، یہود نے کہا کہ اے ابوالقاسم! تم نے پہنچا دیا، رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میرا مقصد یہی تھا، پھر تیسری بار آپ نے یہی کلمات فرمائے، اور فرمایا کہ جان لو کہ زمین ﷲ اور اس کے رسول صلی ﷲ علیہ وسلم کی ہے، اور میں ارادہ کرتا ہوں کہ تمہیں اس زمین سے دور کر دوں، اس لئے تم میں سے جو شخص اپنے مال کے عوض کچھ (قیمت) پائے تو بیچ دے ورنہ تم جان لو کہ زمین ﷲ اور اس کے رسول کی ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment