کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
باب
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اہل علم کواتفاق پررغبت دلانے کا بیان
حدیث نمبر
6825
حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ کُنْتُ أُقْرِئُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ فَلَمَّا کَانَ آخِرُ حَجَّةٍ حَجَّهَا عُمَرُ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بِمِنًی لَوْ شَهِدْتَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَتَاهُ رَجُلٌ قَالَ إِنَّ فُلَانًا يَقُولُ لَوْ مَاتَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ لَبَايَعْنَا فُلَانًا فَقَالَ عُمَرُ لَأَقُومَنَّ الْعَشِيَّةَ فَأُحَذِّرَ هَؤُلَائِ الرَّهْطَ الَّذِينَ يُرِيدُونَ أَنْ يَغْصِبُوهُمْ قُلْتُ لَا تَفْعَلْ فَإِنَّ الْمَوْسِمَ يَجْمَعُ رَعَاعَ النَّاسِ يَغْلِبُونَ عَلَی مَجْلِسِکَ فَأَخَافُ أَنْ لَا يُنْزِلُوهَا عَلَی وَجْهِهَا فَيُطِيرُ بِهَا کُلُّ مُطِيرٍ فَأَمْهِلْ حَتَّی تَقْدَمَ الْمَدِينَةَ دَارَ الْهِجْرَةِ وَدَارَ السُّنَّةِ فَتَخْلُصَ بِأَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ فَيَحْفَظُوا مَقَالَتَکَ وَيُنْزِلُوهَا عَلَی وَجْهِهَا فَقَالَ وَاللَّهِ لَأَقُومَنَّ بِهِ فِي أَوَّلِ مَقَامٍ أَقُومُهُ بِالْمَدِينَةِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْکِتَابَ فَکَانَ فِيمَا أُنْزِلَ آيَةُ الرَّجْمِ
موسی بن اسمعیل، عبدالواحد، معمر، زہری، عبیدﷲ بن عبدﷲ ، حضرت ابن عباس سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں عبدالرحمن بن عوف کو (قرآن) پڑھایا کرتا تھا، جب حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے آخری حج کیا تو عبدالرحمن نے منی میں کہا کہ کاش تم امیرالمومنین کے پاس حاضر ہوتے ان کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے بیان کیا کہ فلاں آدمی کہتا ہے کہ اگر امیرالمومنین انتقال کر جائیں تو ہم فلاں شخص کے ہاتھ پر بیعت کر لیں، حضرت عمر نے کہا کہ آج شام کو کھڑے ہو کر ان لوگوں کو ڈراؤں گا، جو (مسلمانوں کے حق کو) غصب کرنا چاہتے ہیں، میں نے کہا کہ ایسا نہ کریں اس لئے کہ حج کا موسم ہے آپ کی مجلس میں زیادہ تر عام لوگ ہوں گے مجھے ڈر ہے کہ وہ لوگ اس کو سن کر صحیح مقام پر نہ رکھیں گے اور ہر طرف لے کر اڑیں گے (یعنی ان کی اشاعت کریں گے) اس لئے آپ انتظار کریں یہاں تک کہ دارالہجرۃ اور دارالسنۃ یعنی مدینہ پہنچ کر آپ صرف رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب یعنی مہاجرین اور انصار کو جمع کر کے کہیں وہ لوگ آپ کی گفتگو کو یاد رکھیں گے اور صحیح مقام پر رکھیں گے، حضرت عمر نے فرمایا کہ خدا کی قسم میں مدینہ میں پہنچتے ہی سب سے پہلے یہی کہوں گا، حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ ہم لوگ مدینہ پہنچے تو حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے (خطبہ دیا) کہ ﷲ تعالی نے محمد صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا اور آپ کی کتاب نازل کی ہے اور جو آیات نازل ہوئیں ان ہی میں سے سنگسار کرنے کی آیت بھی ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment