Wednesday, November 2, 2011

Jild3,Bil-lihaaz Jild Hadith no:2113,TotalNo:6764


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
آرزو کرنے کا بیان
باب
اذان ونماز، روزہ، فرائض اور احکام میں سچے آدمی کی خبر واحد کے جائز ہونے کا بیان
حدیث نمبر
6764
 حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ قَامَ رَجُلٌ مِنْ الْأَعْرَابِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْضِ لِي بِکِتَابِ اللَّهِ فَقَامَ خَصْمُهُ فَقَالَ صَدَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْضِ لَهُ بِکِتَابِ اللَّهِ وَأْذَنْ لِي فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ فَقَالَ إِنَّ ابْنِي کَانَ عَسِيفًا عَلَی هَذَا وَالْعَسِيفُ الْأَجِيرُ فَزَنَی بِامْرَأَتِهِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَی ابْنِي الرَّجْمَ فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةٍ مِنْ الْغَنَمِ وَوَلِيدَةٍ ثُمَّ سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَی امْرَأَتِهِ الرَّجْمَ وَأَنَّمَا عَلَی ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَکُمَا بِکِتَابِ اللَّهِ أَمَّا الْوَلِيدَةُ وَالْغَنَمُ فَرُدُّوهَا وَأَمَّا ابْنُکَ فَعَلَيْهِ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ وَأَمَّا أَنْتَ يَا أُنَيْسُ لِرَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ فَاغْدُ عَلَی امْرَأَةِ هَذَا فَإِنْ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا فَغَدَا عَلَيْهَا أُنَيْسٌ فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا
ابوالیمان، شعیب، زہری، عبید ﷲ بن عبد ﷲ بن عتبہ بن مسعود، حضرت ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ایک بار ہم لوگ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے کہ ایک اعراب میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم میرے واسطے کتاب ﷲ کے مطابق فیصلہ فرما دیں پھر اس کا فریق کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اس نے ٹھیک کہا ہے کتاب ﷲ کے مطابق فیصلہ فرما دیں اور ہمیں عرض کرنے کی اجازت دیں نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بیان کرو اس نے کہا کہ میرا ایک بیٹا اس کے ہاں مزدور تھا اس نے اس کی بیوی سے زنا کیا لوگوں نے کہا کہ میرے بیٹے کو سنگسار کیا جائے گا چناچہ سو بکریاں اور ایک لونڈی دے کر میں نے اس کو چھڑا لیا پھر میں نے علم والوں سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اس کی عورت پر رجم ہے اور میرے بیٹے کو سو درے لگیں گے اور ایک سال کے لئے جلا وطن ہونا پڑے گا تو آپ نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں تمہارے درمیان کتاب ﷲ کے مطابق فیصلہ کروں گا لونڈی اور بکریاں واپس لے لو اورتمہارے بیٹے کو سو درے لگیں گے اور ایک سال کے لیے جلا وطن ہونا پڑے گا اور تم اے انیس اس کی بیوی کے پاس جاؤ اگر وہ اقرار کرلے تو اس کو سنگسار کر دو چناچہ انیس صبح کو اس کی بیوی کے پاس گیا اس نے اقرار کیا تو اس کو سنگسار کر دیا۔



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment