کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
روزے کا بیان
باب
روزہ دار کے پچھنے لگوانے اور قے کرنے کا بیان
حدیث نمبر
1815
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ قَالَ سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَکُنْتُمْ تَکْرَهُونَ الْحِجَامَةَ لِلصَّائِمِ قَالَ لَا إِلَّا مِنْ أَجْلِ الضَّعْفِ وَزَادَ شَبَابَةُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَلَی عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
آدم بن ابی ایاس، شعبہ نے ثابت بنانی، انس بن مالک سے پوچھتے ہوئے سنا کہ کیا آپ لوگ روزہ دار کے لئے پچھنے لگوانے کو مکروہ سمجھتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا نہیں- مگر کمزروی کے سبب سے اس کو برا سمجھتے تھے اور شبابہ نے بواسطہ شعبہ علی عہد النبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے الفاظ زیادہ بیان کیے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment