کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
قرشی عدوی ابوحفص حضرت عمر بن خطاب کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر
3417
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ سَالِمٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُرِيتُ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَنْزِعُ بِدَلْوِ بَکْرَةٍ عَلَی قَلِيبٍ فَجَائَ أَبُو بَکْرٍ فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ نَزْعًا ضَعِيفًا وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ ثُمَّ جَائَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا يَفْرِي فَرِيَّهُ حَتَّی رَوِيَ النَّاسُ وَضَرَبُوا بِعَطَنٍ قَالَ ابْنُ جُبَيْرٍ الْعَبْقَرِيُّ عِتَاقُ الزَّرَابِيِّ وَقَالَ يَحْيَی الزَّرَابِيُّ الطَّنَافِسُ لَهَا خَمْلٌ رَقِيقٌ مَبْثُوثَةٌ کَثِيرَةٌ وهو سيد القوم اعني العبقري
محمد بن عبد ﷲ بن نمیر محمد بن بشر عبید ﷲ ابوبکر بن سالم سالم حضرت عبد ﷲ بن عمر رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسالت مآب صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا میں اپنے آپ کو خواب میں دکھلایا گیا کہ میں ایک کنویں پر کھڑا ہوا اتنا بڑا ڈول جو ایک اونٹنی نکال سکتی ہے نکال رہا ہوں پھر ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ آئے اور انہوں نے ایک یا دو ڈول نکالے مگر کمزور طریقہ سے ﷲ تعالیٰ ان کو بخش دے ان کے بعد عمر بن خطاب آئے تو ڈول چرس بن گیا میں نے کسی طاقت ور مضبوط قوی شخص کو نہ دیکھا کہ وہ عمر (رضی ﷲ عنہ) کی طرح کام کرتا ہو یہاں تک کہ تمام لوگ سیراب ہو گئے اور بیٹھ گئے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment